ذہنی کہر کا مسئلہ
Al-Risala, February 2014, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے شمالی حصہ میں سردی کے موسم میں کہر (fog) کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، اس مسئلے کی بنا پر اس ایریا کی ٹرینیں یا تو اسٹیشنوں پر رک جاتی ہیں یا وہ نہایت دھیمی رفتار سے چلتی ہیں۔ انڈین ریلوے نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک آلہ (device) تیار کیا ہے۔ اس آلے کا نام ہے— فاگ سیف ڈیوائس (fog-safe device)۔ اس آلے کی تیاری کے بعد ٹرین کے ڈرائیور کے لیے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ گہرے کہر کے اندر بھی ٹرین کو 60 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلا سکے۔ یہ مادی کہر (material fog) کا معاملہ ہے۔ اسی طرح ذہنی کہر (intellectual fog) بھی دنیا میں ہر بولنے اور لکھنے والا آدمی ماحول میں اپنی باتوں کو بکھیر رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے استعمال کی بنا پر یہ مسئلہ بے شمار گنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ذہنی کہر کو ایک حدیثِ رسول میں ”فتنۃ الدھیماء“ (سنن أبي داؤد، رقم الحديث: 4242) کہا گیا ہے، یعنی سخت قسم کا تاریک فتنہ۔
ہر آدمی عملاً اسی ذہنی کہر کے اندر جی رہا ہے، وہ اسی کے مطابق سوچتا ہے اور اسی کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بناتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک شخص کس طرح اپنے آپ کو اس مسئلے سے بچائے۔ افکار کے اندھیرے میں کس طرح وہ اپنے آپ کو صحتِ فکر (right thinking) پر قائم رکھے۔
’فاگ سیف ڈیوائس‘ گویا مادی مثال کی صورت میں اس حل کی ایک نشان دہی ہے۔ کرنا ہے کہ ہم اپنے آپ کو داخلی طور پر اس طرح تیار کریں کہ ہم خارجی فاگ سے غیر متاثر رہ کر سوچنے کے قابل ہو جائیں۔ ریلوے کی مادی تدبیر کی طرح ہم میں سے ہر شخص کو ایک نظریاتی تدبیر کرنا قانون فطرت کے مطابق، خارجی فاگ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ جو کچھ ممکن ہے، وہ صرف یہ کہ ذاتی تدبیر کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو اس کے برے اثرات سے محفوظ کرلے۔