Al-Risala · February 2014

حدیبیہ انقلاب

Al-Risala, February 2014, pp. 15–18

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم تہذیبوں کے ساز و سامان کے بغیر، کسی مقصد کو حاصل کرنا قدیم ترین زمانے سے انسان کا یہ ذہن رہا ہے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ جنگ ہے۔ عربی زبان کی ایک قدیم مثل ہے : الحرب أنفي للحرب۔ میں کہا جاتا ہے ۔ وار فار پیس(war for peace)، یعنی پُر امن مقصد حاصل کرنا ہے تو جنگ کرو۔ فارسی کے ایک قدیم شاعر نے کہا تھا کہ جو شخص تلوار چلاتا ہے، اُسی کے نام کا سکہ چلتا ہے: ہر کہ شمشیر زند، سکہ بہ نامش خوانند مگر تاریخ کا تحریر کردہ عکس بالکل متبرک جنگ اور جنگجو کبھی کسی کو کوئی مثبت فائدہ ملٹری تاریخ کا تجربہ برعکس طور پر بتاتا ہے کہ جنگ سے بھی کسی نے کوئی مثبت فائدہ حاصل ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ جنگ میں جو فریق ہارتا ہے، وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہارنے والے فریق کے اندر انتقام (revenge) کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ وہ دوبارہ اپنی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور فاتح فریق کے خلاف انتقامی جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ یہی واقعہ بار بار ہوتا رہتا ہے۔ طرح عملاً یہ ہوتا ہے کہ جنگ سے ہمیشہ ایک دورِ برائی (vicious circle) قائم ہو جاتا ہے: مسلم تاریخ بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ (exception) کی مثال نہیں، مسلم تاریخ بھی اِس معاملے میں استثنا (exception) کی مثال نہیں۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ بتاتی ہے کہ 2 ہجری میں بدر کی لڑائی پیش آئی۔ اِس جنگ میں اہلِ ایمان کو مکمل فتح حاصل ہوئی۔ انھوں نے فریقِ ثانی کے 70 افراد کو قتل کر دیا، لیکن مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ عملاً یہ ہوا کہ شکست خوردہ فریق انتقامی نفسیات میں مبتلا ہو گیا۔ مکہ لوٹ کر اس نے نئی جنگ کی تیاری شروع کر دی اور پھر 3 ہجری میں اس نے انتقامی جذبے کے تحت مدینہ پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ جنگ پیش آئی جس کو جنگ احد کہا جاتا ہے۔ جنگ احد میں اہلِ ایمان کو شکست ہوئی اور فریقِ مخالف نے اس جنگ میں اہلِ ایمان کے 70 افراد کو قتل کر دیا۔ جنگ کے خاتمے پر فریقِ مخالف کے سردار ابو سفیان نے ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا: یوم بیوم بدر (آج ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا)۔

تجربہ بتاتا رہے کہ پوری تاریخ میں اربابِ کار اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ انسان کی انتقامی نفسیات اس میں رکاوٹ ہے کہ جنگ کے ذریعے کوئی مثبت مقصد حاصل کیا جاسکے۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل طریقہ صرف یہ ہے کہ جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ صلح کا فائدہ یہ ہے کہ فریقین کے درمیان پر امن ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ حالات کے اندر چھپے ہوئے مواقع کو دریافت کر کے انھیں استعمال کیا جائے ۔ اس مصالحانہ پالیسی کے تحت کامیابی کا حصول پوری طرح ممکن ہو جاتا ہے، کیوں کہ مواقع کے استعمال ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ خدائی منصوبہ بندی اس معاملے میں انسان کو صحیح رہنمائی دینے کے لیے اللہ نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ واقعہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں پیش آیا۔ اللہ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اس کا آغاز ایک خواب سے ہوا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے۔ یہاں آپ نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کے مطابق ، آپ ذوالقعدہ 6 ہجری میں اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد مختلف واقعات پیش آئے ۔ آخر کار طویل گفت و شنید (negotiation) کے بعد فریقین کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو تاریخ میں معاہدہ حدیبیہ (Hudaibia Agreement) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ اپنی تفصیلات کے اعتبار سے، کئی شرطوں پر مشتمل تھا، لیکن اس کی بنیادی شرط صرف ایک تھی، وہ یہ کہ دس سال تک دونوں فریقوں کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوگی۔ اس شرط کے الفاظ یہ تھے: هذا ما صالح محمد بن عبد الله سهيل بن عمرو اصطلحاعلى وضع الحرب عن الناس عشر سنين، يأمن فيهن الناس ويكف بعضهم عن بعض (سيرة ابن كثير : 3/321) یعنی یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان طے دونوں اس پر رضا مند ہوئے کہ دونوں کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔ معاہدہ حدیبیہ دراصل دس سال کے لیے ایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ دونوں فریقوں کے درمیان اُس وقت دشمنی کا جو ماحول تھا، اُس کے اعتبار سے اس قسم کا معاہدہ ایک

ایسا معاہدہ تھا جو عملاً ناممکن نظر آتا تھا۔ چناں چہ بظاہر یہ ناممکن چیز صرف اُس وقت ممکن ہوئی، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فریق ثانی کی کڑی شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ مثلاً ایک شرط یہ تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اگر اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تو اس کو دوبارہ مکہ والوں کی طرف لوٹانا ہوگا۔ کے برعکس، مدینے کا کوئی شخص اگر مکہ چلا جائے تو اہل مکہ کو حق ہوگا کہ وہ اس کو مکہ میں روک لیں اور دوبارہ اس کو مدینہ واپس نہ کریں۔ اسی طرح اس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ تمام اہل ایمان اس سال حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں، وہ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل نہ ہوں۔

معاہدہ حدیبیہ ایک کاغذ پر لکھا گیا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق، انھوں نے پہلا جملہ یہ لکھا: هذا ما صالح عليه محمد رسول فریق ثانی کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے اس پر اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، اس لیے آپ صرف ”محمد بن عبد اللہ لکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا کہ تم کاغذ پر رسول اللہ“ کا لفظ مٹا دو اور صرف ”محمد بن عبد اللہ لکھو۔ حضرت علی کا کاغذ سے ’رسول اللہ کا لفظ مٹانے پر راضی نہ ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو اپنے ہاتھ سے کاغذ سے مٹا دیا۔ معاہدے کی تکمیل کے بعد رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے۔ اس معاہدے سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل طور پر ایک حالت جنگ (state of war) قائم تھی۔ اس بنا پر اسلام کا دعوتی مشن عملاً تقریباً متروک ہو کر رہ گیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مکمل امن قائم اب پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے دعوت کا نیا منصوبہ بنایا۔ انھوں نے منظم انداز میں مدینہ کے اطراف میں مسلسل طور پر دعوتی کام شروع کر دیا۔ عرب کے مختلف علاقوں میں آباد قبائل کے درمیان وفود بھیج کر دعوتی کام کیا جانے لگا، حتی کہ عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، اُن کے یہاں دعوتی وفود بھیجے جانے لگے۔ خود مکہ میں رشتے داروں کے ذریعے آمد و رفت جاری ہو گئی۔ اس طرح خود مکہ میں توحید کی آواز پہنچنے لگی۔ پرامن ماحول میں اس طرح دعوتی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ صرف دو سال کے اندر اہل ایمان کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ

یہ ممکن ہو گیا کہ جنگ کے بغیر خود اہل ایمان کی تعداد اسلام کی فتح کے لیے کافی ہو جائے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموش منصوبہ بندی کے تحت دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرزِف مارچ کیا ۔ اس طرح کسی جنگ کے بغیر مکہ پر اہل ایمان کا غلبہ قائم ہو گیا۔ توحید کی آواز انسانی فطرت کی آواز ہے۔ اگر معتدل ماحول میں دعوتی کام ہو تو پرامن دعوت ہی لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کے لیے کافی ہو جائے ۔ روایات میں آیا ہے کہ جب اچانک ایک صبح کو اہل مکہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے ہیں تو مکہ کے سردار ابوسفیان نے یہ اعلان کر دیا: یا معشر قریش، هذا محمد قد جاء کم فيما لا قبل لكم به، فمن دخل دار أبي سفيان فهو آمن (سيرة ابن هشام: 4/23) یعنی اے قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں جو اس طرح مکہ میں داخل ہو گئے ہیں کہ تمھارے اندر اُن کے مقابلے کی طاقت نہیں۔ معاہدہ حدیبیہ کے نتیجے میں جو تاریخی واقعہ پیش آیا، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (1-2: یعنی جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح ، اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ’نصر اللہ‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر نصر عزیز کہاگیا ہے۔ یَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً‘ کے الفاظ میں اُس واقعے کا ذکر ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا۔ لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے کہ ان کی کثرت تعداد ہی فتح کا سبب بن گئی۔

Printed page