حکمتِ حدیبیہ
Al-Risala, February 2014, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
نزاع (conflict) کے معاملے میں انسان قدیم زمانے سے صرف یہ جانتا تھا کہ ایسے معاملے میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہوتا ہے — جنگ یا پسپائی۔ مگر انسان کی یہ سوچ ثنائی طر فکر (dichotomous thinking) پر مبنی تھی۔ قانون فطرت کے مطابق، یہاں ایک اور انتخاب ممکن تھا جس سے پوری تاریخ میں انسان بے خبر رہا۔ وہ انتخاب یہ تھا کہ یک طرفہ صلح کے ذریعے
یکے زاں قہقہہ ہاے مستانہ کشید کزاں واقعہ طفل شیر خوار صدمۂ عظیم خورد و امن قائم کیا جائے اور پھر حکیمانہ منصوبہ بندی کے ذریعے موجود مواقع (opportunities) کو بھرپور طور پر استعمال (avail) کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نہ فریقِ ثانی سے ٹکراؤ کیا جائے اور نہ پسپائی کا طریقہ اختیار کیا جائے، بلکہ خاموش منصوبہ بندی کے ذریعے امن کی طاقت (power of peace) کو استعمال کیا جائے۔ حدیبیہ کے تاریخی واقعے کے تحت اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے اس حکمت کا عملی مظاہرہ (practical demonstration) کروایا۔
مگر یہ تاریخ کا عجیب سانحہ ہے کہ حکمتِ حدیبیہ کے کامیاب مظاہرے کے باوجود مسلم اور غیر مسلم دونوں اس عظیم حقیقت سے بے خبر رہے۔ تاریخ میں حکمت حدیبیہ کو صرف ایک بار استعمال کیا گیا، نہ اُس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ انسان ہمیشہ امن کے بارے میں سوچتا رہا ہے، حتیٰ کہ امن باقاعدہ مطالعے کا ایک مستقل موضوع بن گیا ہے جس کو پیسفزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس موضوع پر ایک انسائیکلو پیڈیا بھی تیار کی گئی ہے جس کا نام انسائیکلو پیڈیا آف پیسفزم (Encyclopedia of Pacifism) ہے، مگر اب تک کوئی قابلِ عمل نظریہ امن (ideology of peace) در یافت نہ ہوسکا۔
روسی مصنف لیوٹالسٹائے (وفات: 1910) کی امن کے موضوع پر ایک مشہور کتاب ہے۔ ورلڈ لٹریچر میں وہ ٹاپ کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ امن کا قیام صرف عالمی محبت (universal love) کے تصور پر قائم ہوسکتا ہے۔ اُس کی اس روسی کتاب کا ترجمہ مختلف عالمی ... زبانوں میں ہوا ہے۔ انگریزی ترجمے کا ٹائٹل یہ ہے :