Al-Risala · February 2014

War and Peace, by Leo Tolstoy—1865

Al-Risala, February 2014, pp. 19–26

By Maulana Wahiduddin Khan

... گہرا کلام معلوم ہوتا ہے، ٹالسٹائی کہتا ہے صوفی ایک ناول نگار ہے، لعن، فلش کے مگر جیسا کہ معلوم ہے، ٹالسٹائے کی کتاب صرف ایک ناول ہے، یعنی وہ فکشن کے پیرایے میں لکھی گئی ہے، اور کوئی فکشن حقیقی زندگی (real life) کے لیے گائیڈ بک نہیں بن سکتا۔ قرآن کا بیان ماہنامہ حرا ، ممبئی (رودادِ سفر) مئی ٢٠١٤ء کے صفحہ... پر

اس سورہ کی ابتدائی تین آیتیں یہ تھیں: اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فۡتَحۡا مُّبِیۡنًا ۙ لَّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی تا کہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الفتح دوران سفر اس وقت اتری جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد حدیبیہ سے مدینہ جا رہے تھے۔ اُس وقت جو واقعہ ہوا تھا، وہ صرف معاہدۂ امن تھا۔ جہاں تک فتح کی بات ہے، وہ ابھی مستقبل کی چیز بنی ہوئی تھی۔ پھر کیوں ایسا ہوا کہ ماضی کے صیغے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے تم کو فتح دے دی، کھلی ہوئی فتح۔ یہ اسلوب دراصل امن کی اہمیت بتانے کے لیے تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب حقیقی معنوں میں پرامن طریقہ (peaceful method) اختیار کیا جائے، تو اُس کے بعد موافق نتیجے کا نکلنا یقینی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ لِیَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، اِس آیت میں 'ذنب' کا لفظ ہے۔ 'ذنب' کے لفظی معنی گناہ (sin) کے مگر یہاں 'ذنب' کا لفظ اپنے معروف معنی کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ شدتِ اظہار کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر یک طرفہ امن کی طرف رہنمائی کی تو تمھارے اندر اس کے درست ہونے پر شک کیوں پیدا ہوا۔

جیسا کہ روایات میں آیا ہے، صحابہ نے اس معاہدے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ حضرت عمر فاروق نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ: لم نعطي الدنية في ديننا (ہم اپنے دین کے بارے میں ذلت کا طریقہ کیوں اختیار کریں)۔ اسی طرح یہاں'مغفرت' سے مراد معروف معنی میں بخشش (salvation) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تحریک توحید کے دوران اہل ایمان سے تدبیر کے اعتبار سے جو خطائیں ہوئیں، اُن کو موثر نہ ہونے دینا، ان تدبیری خطاؤں کے باوجود آخری کامیابی کو یقینی بنانا۔ آیت میں واحد کا صیغہ (لیغفر لك) استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے، مگر یہ خطاب نمائندہ ہونے کے اعتبار سے ہے،

یعنی اُس وقت رسول کی حیثیت جماعتِ مسلمین کے نمائندہ کی تھی۔ گویا اس آیت میں رسول کو خطاب کرتے ہوئے پوری جماعتِ مسلمین کو مخاطب بنایا گیا ہے۔ بہ اعتبارِ حقیقت، اس سے مراد اُس وقت کے اہلِ ایمان کی پوری جماعت ہے۔ اس تفسیر کا ایک قرینہ یہ ہے کہ قرآن میں اس معاملے کو ’إنا فتحنا لك‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، حالاں کہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ یہ فتح پیغمبرِ اسلام کی شخصی فتح نہ تھی، وہ اس وقت کی تمام جماعتِ مومنین کی اجتماعی فتح تھی۔ اس کا دوسرا قرینہ یہ ہے کہ آگے اسی سورہ کی آیت نمبر 5 میں جمع کے الفاظ آئے ہیں۔

اس آیت میں اتمامِ نعمت سے مراد وہ چیز نہیں ہے جس کو دوسرے مقام پر اکمالِ دین (6:3) کہا گیا سورہ الفتح میں اتمامِ نعمت سے مراد وہ حکیمانہ تدبیر ہے جس کی تلقین حدیبیہ کے معاملے میں اللہ کی طرف سے کی گئی تھی۔ آگے فرمایا کہ ’ويهديك صراطا مستقيما‘۔ اس آیت میں صراطِ مستقیم کا لفظ ایک مختلف معنی میں آیا ہے۔ سورہ الفاتحہ میں صراطِ مستقیم سے مراد انفرادی صراطِ مستقیم ہے اور سورہ الفتح میں صراطِ مستقیم سے مراد اجتماعی صراطِ مستقیم۔ آخر میں فرمایا کہ: ’وينصرك الله نصرا عزيزا‘۔ اس آیت میں نصرِ عزیز سے مراد عام فتح نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ فتح ہے جو مکمل طور پر پُرامن تدبیر کے ذریعے حاصل ہو، جیسا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا، نصرِ عزیز کا یہ مفہوم قرآن کی سورہ النصر (110) سے مزید واضح ہوتا اس سورہ میں ’نصر اللہ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ نصراللہ (خدائی فتح) کس طرح حاصل ہوئی ۔ واضح طور پر وہ اُس پُرامن تدبیرِ حکمت کے ذریعے حاصل ہوئی جو معاہدہ حدیبیہ کے وقت اختیار کی گئی تھی۔ معاہدہ حدیبیہ سادہ طور پر صرف ایک معاہدہ نہ تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعے انسان کے اوپر ایک عظیم حکمت (wisdom) کو کھولا گیا، یعنی یہ حکمت کہ اجتماعی زندگی میں کامیابی کا طریقہ کیا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں 2 ہجری میں بدر کی لڑائی پیش آئی۔ اس لڑائی میں اہلِ ایمان کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی، لیکن اس کے صرف ایک سال بعد احد کی لڑائی پیش آئی۔ اس لڑائی میں فریق ثانی نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے لڑائی کے میدان میں اہلِ ایمان کے

70 آدمیوں کو ہلاک کر دیا۔ ایسا انتقامی نفسیات کی بنا پر ہوا۔ بدر کی لڑائی اہل ایمان کے لیے فتح تھی، لیکن فریق ثانی کے لیے وہ انتقام کے ہم معنی بن گئی:

Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party. اس تجربے سے معلوم ہوا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں۔ جنگ میں کامیابی صرف اُس وقت مسئلے کا حل بن سکتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی شکست (defeat) کو تسلیم کرے۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو نہیں مانتا، بلکہ اس کے اندر انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کو ختم کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔ اس بنا پر اللہ کی رہنمائی کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلے کے حل کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقے کو حکمت حدیبیہ کہہ سکتے ہیں۔ حدیبیہ کا معاہدہ ایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا، جو فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر انجام پایا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم معاہدے کو مکمل کرنے کے بعد حدیبیہ سے مدینہ کی طرف واپس لوٹےـ سفر کے دوران آپ پر سورہ الفتح نازل ہوئی۔ آپ کے اصحاب معاہدہ حدیبیہ پر خوش نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورہ الفتح اپنے اصحاب کو سنائی تو صحابہ کو اس کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے تعجب کے ساتھ کہا: أو فتح هو یا رسول الله؟ قال: نعم، والذي نفسي بيده إنه لفتح۔ (اے خدا کے رسول، کیا یہ فتح ہےـ آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک وہ فتح ہے)۔ ایک اور شخص نے کہا کہ: ما هذا بفتح (یہ تو کوئی فتح نہیں)۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بل هو أعظم الفتوح (وہ فتح ہے، بلکہ وہ تمام فتحوں سے زیادہ بڑی فتح ہے) تفسیر القرطبی: 16/260 معاہدہ حدیبیہ جیسے ایک معاہدے کو قرآن میں فتح مبین کیوں کہا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں فرمایا کہ یہ ایک عظیم فتح ہے، حالاں کہ آیت کے نزول کے وقت عملی طور پر فتح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تبصرہ سیاسی فتح کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ اس معنی میں تھا

کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اہل ایمان کو اپنے حریف کے اوپر بالادستی حاصل ہوگئی ، یعنی اہل ایمان اپنے حریف کے مقابلے میں ایڈوانٹیج کی پوزیشن میں آگئے۔

معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریق ثانی کے پاس صرف تلوار کی طاقت تھی۔ اس معاہدے نے فریق ثانی کو پابند کر دیا کہ وہ اپنی تلوار کو اہل ایمان کے خلاف استعمال نہ کرے۔ اس طرح گویا اہل ایمان کے مقابلے میں، فریق ثانی خود تو بے طاقت ہو کر رہ گیا۔ لیکن اہل ایمان کے پاس تلوار کے سوا ایک اور چیز تھی جو فریق ثانی کے پاس نہ تھی اور وہ ہے نظریہ توحید (ideology of Tawhid)۔ یہ نظریاتی طاقت پوری طرح قابلِ استعمال تھی۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ فریق ثانی عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل نہ رہا۔ اس کے برعکس، امن کے قیام کی بنا پر اہل ایمان کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی پوری طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آئیڈیالوجی کی بھر پور تبلیغ کریں۔

چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ ایک طرف فریق ثانی اس پر مجبور ہو گیا کہ وہ اہل ایمان کے خلاف اپنی تلوار نہ استعمال کرے اور دوسری طرف اہل ایمان کامل آزادی کے ماحول میں نظریہ توحید کی تبلیغ واشاعت میں ہمہ تن مشغول ہو گئے۔ انھوں نے عرب کے تمام شہروں اور قبیلوں میں توحید کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا، حتی کہ عرب کے باہر جو ممالک تھے، اُن کے باشندوں تک بھی وہ اسلام کا پیغام پہنچانے اسی حکمتِ حدیبیہ کا یہ نتیجہ تھا کہ صرف دو سال میں پورا عرب اسلام میں داخل ہو گیا۔ حدیبیہ پالیسی کا فائدہ صرف یہ نہ تھا کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے ملک میں اسلام کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مختصر مدت میں وہاں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) اس کا دوسرا عظیم فائدہ یہ ہوا کہ حدیبیہ پالیسی کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اُس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک نیا عمل (process) جاری کر دیا۔ عمیق مختلف مراحل سے گزرتا ہوا موجودہ دور تک اس اعتبار سے، موجودہ دور کو حدیبیہ پر اس کا نقطہ انتہا کہا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ حکمت کیا تھی ۔ حدیبیہ حکمت مختصر طور پر یہ تھی کہ جنگی ٹکراؤ کو بند کر کے امن کا ماحول قائم کرنا اور پھر پُرامن کوشش کے ذریعے اسلام کے فطری پیغام (natural message) کو لوگوں تک پہنچانا۔

موجودہ زمانے میں انسانی تعلقات کے درمیان جو تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کے بعد یہی حدیبیہ کلچر تمام قوموں کے اتفاق کے ساتھ ساری دنیا میں رائج ہو گیا ہے۔ اس اعتبار سے، موجودہ دور کو دور حدیبیہ (age of Hudaibia) کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے دور میں حدیبیہ کلچر صرف مقامی طور پر آیا تھا۔ موجودہ زمانے میں حدیبیہ کلچر کسی قربانی کے بغیر عالمی سطح پر قائم ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا قیام اقوام متحدہ (UNO) 1945 میں قائم ہوئی۔ اس ادارے کا خاص مقصد عالمی امن کا قیام دنیا کے تمام ممالک باقاعدہ طور پر اس کے ممبر بنے۔ اس بین اقوامی ادارے کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک (امریکا) میں قائم ہے۔ اس عالمی ادارے کے تحت تمام ملکوں کے اتفاق سے یک چارٹر (charter) تیار کیا گیا، جس کو اقوام متحدہ کا منشور (Charter of the United Nations) کہا جاتا ہے۔ اس چارٹر کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے ایک قرارداد طے پائی جو دفعہ 2 (4) کے طور پر اس چارٹر میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کی دفعہ کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے یہ طے پایا کہ — تمام ممبر ممالک بین اقوامی تعلقاتی میں اس کے پابند ہیں کہ وہ کسی ریاست کو اس کے استحکام یا اس کی سیاسی آزادی کے معاملے میں دھمکی نہیں دیں گے اور نہ اس کے خلاف طاقت کا استعمال کریں گے: All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state. اقوام متحدہ کے چارٹر کی یہ دفعہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے، عین وہی ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے وقت طے پائی تھی۔ مزید یہ کہ ساتویں صدی میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریق ثانی کی جن شرطوں کو ایک طرفہ طور پر ماننا پڑا تھا، بیسویں صدی میں تمام قوموں نے ان شرطوں کو بطور خود حذف کر دیا۔ موجودہ زمانے میں اہل ایمان کو اس چارٹر کے مطابق، خود حالات کے تحت، عالمی امن حاصل ہو گیا اسی کے ساتھ موجودہ زمانے میں مزید اضافے کے ساتھ وہ تمام امکانات اور مواقع پوری طرح کھل گئے ہیں جو دعوت الی اللہ کے عالمی مشن کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، کھلا پن

(openness)، کمیونیکیشن، آزادانہ آمدورفت، پرنٹنگ پریس، وغیرہ۔

سورہ الفتح جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد اتری تھی، اُس کا خاتمہ اس آیت پر ہوا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (48:29) یعنی محمد، اللہ کے رسول اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان تم اُن کو رکوع میں اور سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے اُن کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدے کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ انجیل میں اُن کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی۔ اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تا کہ اللہ ان سے منکرین کو غصہ دلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن سے معافی اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ قرآن کی سورہ الفتح کے خاتمے کے یہ الفاظ تمثیل کی زبان میں ایک اہم تاریخی حقیقت کو بتا رہے ہیں، وہ یہ کہ معاہدہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ 6 ہجری میں پیش آیا، وہ کوئی وقتی اور محلی چیز نہ تھا، بلکہ وہ ایک عظیم عمل (process) کا آغاز تھا، جس کے تکمیلی مرحلے پر ایک عالمی عالمی انقلاب آنے والا تھا۔ انقلاب تدریجی طور پر آیا اور بیسویں صدی عیسوی میں اس کی تکمیل ہوئی۔

اس عالمی انقلاب سے مراد وہی چیز ہے جس کو ہم نے دور حدیبیہ (age of Hudaibia) کہا معاہدہ حدیبیہ کا خلاصہ یہ تھا کہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر امن قائم کرنا اور پھر تمام موجود مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کرنا۔ یہ موافق حالات جو قدیم زمانے میں رسول اور اصحاب رسول کی قربانیوں کے ذریعے ظہور میں آئے تھے، وہ اب عالمی تبدیلیوں کے نتیجے میں خود زمانی تقاضے کے تحت مزید اضافے کے ساتھ حاصل ہو گئے ہیں۔ یہ جدید موافق حالات جن اسباب کے ذریعے

ظہور میں آئے، وہ وہی ہیں جن کو مغربی تہذیب، جمہوری افکار، اقوام متحدہ، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ بظاہر سیکولر انقلابات تھے لیکن اللہ نے ان بظاہر سیکولر انقلابات کو دین کی تائید کا ذریعہ بنا دیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں حدیبیہ معاہدے کا جو موافق نتیجہ ظاہر ہوا تھا، اس کو قرآن میں فتح مبین‘ کہا گیا ہے۔ حدیبیہ معاہدہ کوئی پراسرار چیز نہ تھی، وہ ایک معلوم حکیمانہ تدبیر تھی ۔ صدی عیسوی میں اس تدبیر کو صرف محدود طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ رسول اور اصحاب رسول کو یہ قربانی دینی پڑی تھی کہ وہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیں، حتیٰ کہ لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کو وہ معاہدے کی دستاویز سے مٹا دیں۔ مگر بعد کو اللہ کی مدد سے جو حالات پیدا ہوئے، اُس کے بعد ایسا ہوا کہ حدیبیہ انقلاب وسیع تر معنی میں ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ حدیبیہ معاہدے کے ذریعے جو امکانات صرف دس سال کے لیے حاصل کیے گئے تھے، موجودہ زمانے میں انھوں نے مستقل طور پر عالمی اصول (universal norm) کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اب نہ دوسروں کی شرطوں کو ماننے کی ضرورت ہے اور نہ کسی دستاویز سے ’’رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو مٹانے کی ضرورت۔ حدیبیہ معاہدے کے بعد اہل ایمان کو کام کے جو مواقع ملے تھے، وہ اب مزید اضافے کے ساتھ اُن کو حاصل ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان مواقع کو دریافت کیا جائے اور دانش مندی کے ساتھ اس کو استعمال کیا جائے۔ (31 اگست 2013) ’’پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا جیون‘ ’’سیرت رسول‘‘ کا ہندی ترجمہ یہ کتاب سیرت رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی مطالعہ ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے۔ زیرِ نظر کتاب معلوماتی اسلوب میں سیرت رسول کا ایک تفصیلی تعارف ہے۔

Printed page