خدا اور بندہ
Al-Risala, January 2014
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا شاہ حکیم اختر (2013-1924) ایک صوفی عالم تھے۔ وہ مولانا عبد الغنی پھول پوری کے خلیفہ تھے۔ وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ: ”بارہ سال کی عمر تھی۔ جنگل کی ایک مسجد میں جاکر نماز پڑھتا اور آسمان کی طرف دیکھ کر مولانا روم کا یہ شعر پڑھتا جاتا اور روتا جاتا: سینه خواہم شرح شرح از فراق تا بگویم شرح از درد اشتیاق ترجمہ: اے اللہ، میں آپ کی جدائی کے غم میں اپنا سینہ ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہتا ہوں، تاکہ میں آپ کی محبت کے درد اشتیاق کی شرح بیان کر سکوں‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، اگست 2013، صفحہ: 7)۔ اللہ سے محبت بلاشبہ مطلوب ہے، لیکن یہ محبت ذاتی نوعیت کے عشق و عاشقی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ انسان اللہ کے رحیم و کریم ہونے کو دریافت کرے اور اس کے نتیجے میں وہ حمد اور شکر کی اعلی کیفیات سے سرشار ہوجائے، وہ معرفت خداوندی میں جینے لگے، اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کا عمل (process) شروع ہو جائے۔ جب ایسا ہوگا تو آدمی کو اس کا ایک فائدہ یہ ملے گا کہ اس کے اندر وہ ربانی شخصیت بنے گی جو جنت میں داخلے کی مستحق قرار پائے اور وہ اللہ کی قربت کا تجربہ کرے۔ اس کے صبح و شام فرشتوں کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گے، اس کے اندر حکمت کا انبات ہونے لگے گا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے (ما زہد عبد في الدنيا إلا أنبت الله في قلبه الحكمة)۔
اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر شدت کے ساتھ دعوت الی اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔ وہ اس مقصد کے لیے سرگرم ہو جائے گا کہ اللہ کے بندوں کو وہ اللہ کا پیغام پہنچادے۔ اس کی اپنی معرفت اُس وقت تک مشتبہ نظر آئے گی، جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے بھی اسی ربانی تجربے کا حریص نہ بن اس کو اپنی جنت اُس وقت تک مشتبہ دکھائی دے گی، جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے میں اپنی ساری طاقت نہ لگا دے۔