آدم کی تخلیق
Al-Risala, February 2014, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان ارتقائی طور پر نہیں پیدا ہوا، بلکہ وہ پہلے ہی دن کامل انسان کے طور پر وجود میں آیا۔ خدا کی تخلیق تھی۔ خدا اس پر قادر ہے کہ وہ لاشے سے شَے کو پیدا کرے۔ اس نے انسان کو وجود عطا کیا، جب کہ اس سے پہلے وہ مکمل طور پر معدوم تھا (19:9)۔ اس پہلے کامل انسان کا نام آدم ہے۔ انسان کو پیدا کر کے اُس کو باغوں والی ایک دنیا میں بسایا، جس کو قرآن میں ”جنت“ کہا گیا ہے۔ جنت میں آدم کو پوری آزادی حاصل تھی، البتہ اس میں ایک درخت کو خدا نے شجرۂ ممنوعہ
(forbidden tree) کی حیثیت دے دی۔ خدا نے آدم سے کہا کہ تم کو اور تمھاری بیوی کو یہاں ہر قسم کی آزادی حاصل ہے، لیکن تم لوگ اس ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانا۔ آدم جس دنیا میں تھے، وہاں اُن کے ساتھ شیطان بھی کسی پہلو سے موجود تھا۔ آدم اور ان کی بیوی دونوں کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ یہ شجرۂ ممنوعہ دراصل شجرۂ خُلد، یاہمیشگی کا درخت (tree of eternity) ہے۔ ابھی تم لوگوں کو صرف زندگی ملی ہے، ابھی تم کو ابدیت حاصل نہیں ہوئی۔ اگر تم اس درخت کا پھل کھا لو تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ تم کو زندگی کے ساتھ ابدیت بھی مل جائے گی۔ کے بعد تم باغوں کی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہ سکتے ہو۔
آدم اور حوا دونوں اس بہکاوے میں آگئے۔ انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا۔ کے مطابق، اُن کا یہ عمل خدا کے حکم کی خلاف ورزی (20:121) تھا۔ چناں چہ پھل کھاتے ہی اچانک ایسا ہوا کہ دونوں خدا کی رحمت سے محروم ہو گئے۔ خدا کی رحمت کا لباس اُن سے اُتر گیا۔ وہ اپنے آپ کو بے بسی کی حالت میں پانے لگے۔ انسان کی تاریخ میں یہ گم راہی کا سب سے پہلا واقعہ تھا۔ گم راہی کیا ہے، گم راہی دراصل حق کے راستے سے انحراف (deviation) کا نام ہے۔ خدا نے انسان کو پیدا کرکے اس کے لیے ایک درست راستہ (صراطِ مستقیم) مقرر کر دیا۔ اس راستے پر چلنے کا نام حق کا اتباع ہے، اور اس راستے سے ہٹنے کا نام حق سے انحراف ہے۔ انسان کی پوری تاریخ دراصل اِسی اتباع اور انحراف کی مختلف شکلوں کا دوسرا نام ہے۔