غلط تسمیہ
Al-Risala, February 2014, pp. 28–38
By Maulana Wahiduddin Khan
شجرۂ ممنوعہ (forbidden tree) کا مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ حق کے راستے سے ہٹنے کا سبب کیا اس کا سبب ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے غلط تسمیہ (wrong nomenclature)۔ آدمی، شیطان کے وسوسے کا شکار ہو کر ہمیشہ یہ کرتا رہتا ہے کہ جو چیز خدا کی مقرر صراطِ مستقیم کے خلاف ہے، اس کو وہ ایک دل فریب نام دے کر اپنے لیے جائز کر لیتا ہے۔
اِسی حقیقت کو پیغمبر یوسف نے اپنے جیل کے مشرک ساتھیوں سے ایک دعوتی گفتگو کے دوران
اس طرح بیان کیا تھا: ”تم خدا کے سوا جن کو پوجتے ہو، وہ صرف نام ہیں، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے اُس کے لیے کوئی دلیل نہیں اتاری‘ (12:40)۔ گم راہی کا سارا معاملہ اسی غلط تسمیہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں شراب کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ليستحلّنّ طائفة من أمتي الخمر باسم يسمونها إياه (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 318) یعنی میری امت کا ایک گروہ ضرور شراب کو اپنے لیے حلال کر لے گا۔ وہ شراب کا ایک اور نام رکھیں گے اور اس طرح وہ اس کو جائز کر لیں گے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کو جب اس کے پیدا کرنے والے نے پیدا کیا تو اُسی وقت اس کی فطرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ اچھے اور بُرے کی تمیز رکھ دی۔ ہر پیدا ہونے والا انسان پیدائشی طور پر اپنے اندر یہ گہرا شعور لیے ہوئے ہوتا ہے کہ فلاں چیز اچھی ہے اور فلاں چیز بُری ، فلاں چیز صحیح ہے اور فلاں چیز غلط۔ آدمی اپنے اندر چھپے ہوئے اس احساسِ فطرت کا انکار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان بُرائی کے نام پر بُرائی نہیں کرتا۔ جب بھی کوئی انسان بُرائی کرنا چاہتا ہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ پہلے وہ اُس بُرائی کا نام بدلتا ہے، وہ اُس بُرائی کو بطورِ خود ایک اچھا نام دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اس فرضی اطمینان میں مبتلا کر لیتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں، وہ کوئی بُرا کام نہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، غلط تسمیہ کے اس طریقے کا آغاز انسانی تاریخ میں سب سے پہلے شیطان نے اس طرح کیا کہ اس نے شجرۂ ممنوعہ کا نام شجرۂ خُلد رکھ دیا اور پھر آدم اور حوا کو راضی کیا کہ وہ اس درخت کا پھل کھا لیں ۔ تاریخ میں تقریباً تمام بُرائیاں اسی غلط تسمیہ کے تحت اختیار کی گئی ہیں۔ زمانے میں جس چیز کو لو اکثر (love affair) کہا جاتا ہے، وہ کیا ہے ۔ وہ دراصل سیکس افر (sex affair) کا خوب صورت نام ہے۔
غلط تسمیہ کی مثالیں موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہو چکی ہیں۔ جدید میڈیا میں ہر روز اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا (یکم نومبر 2007) کے ضمیمہ دہلی ٹائمس کے صفحہ اول پر ایک رنگین تصویر ہے۔ اس تصویر میں ایک لڑکی برائے نام کپڑے پہنے ہوئے
اس با تصویر خبر کے اوپر اخبار نے یہ عنوان قائم کیا ہے— سارہ ایک پر اعتماد لڑکی ہے: Sarah is a Confident Girl. ساری تاریخ میں انسان اسی غلط تسمیہ کا سہارا لے کر برائیوں کا ارتکاب کرتا رہا ہے۔ تاریخ میں جو برائیاں نظر آتی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی غلط تسمیہ کی مثالیں ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں ہم کچھ مثالوں کا ذکر کریں گے۔ غلط تسمیہ کی مثالیں خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو اُس نے یہ کیا کہ ایک طرف، انسان کی فطرت میں حق اور ناحق کا احساس پیدائشی طور پر رکھ دیا۔ یہ احساس انسان کے لاشعور میں پیوست تھا۔ اب ضرورت یہ تھی کہ اس لاشعور کو شعور کے خانے میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے بطور رہنما یا مددگار، خدا نے پیغمبر بھیجنے شروع کیے۔ یہ پیغمبر ہر زمانے میں اور ہر گروہ میں آئے۔ ان کو خدا نے وحی کے ذریعے ہدایت پہنچائی، اور ان کے ذمے یہ کام سپر د ہوا کہ وہ تعلیم اور تلقین کے ذریعے انسان کے ذہن کو بیدار کریں۔ وہ انسان کو اس قابل بنائیں کہ جو کچھ اس کے لاشعور میں ہے، اس کو وہ شعور کے درجے میں دریافت کرلے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
دنیا کی زندگی چوں کہ امتحان کی زندگی ہے، اس لیے یہاں دو قسم کی طاقتیں مسلسل طور پر کام کرتی رہتی ہیں۔ ایک طرف، پیغمبر جو انسان کو سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، اور دوسری طرف شیطان ہے جو انسان کو بہکا کر اس کو گمراہی کے راستے پر ڈالنا چاہتا ہے۔ شیطان کا طریقہ اب بھی وہی ہے جو اُس نے اس سے پہلے آدم اور حوا کے ساتھ اختیار کیا تھا، یعنی غلط تسمیہ کے ذریعے یہ کوشش کرنا کہ انسان بُرائی کو بھلائی کے روپ میں دیکھنے لگے۔ شیطان کے اس عمل کو قرآن میں تزیین (fair-seeming) کہا گیا ہے (15:39)۔ پیغمبروں نے ہمیشہ انسان کو یہ بتایا کہ خدا ایک ہے۔ وہی اکیلا خالق اور تم لوگ اُس کو مانو اور اُسی کی عبادت کرو۔ خدا کے رسولوں کا یہ پیغام، انسان کی فطرت کے عین مطابق تھا۔ انسان کی اپنی فطرت بھی رسولوں کے اس پیغام کی مکمل تائید کر رہی تھی۔ اس بنا پر
انسان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کر دے۔ یہاں شیطان کی ترغیب کے تحت، انسان نے انحراف (deviation) کا طریقہ اختیار کیا۔
یہ انحراف زیادہ تر غلط تسمیہ کے اصول پر مبنی تھا۔ چناں چہ انسان نے کہا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں، لیکن خدا نے اپنے مختلف شرکا (partners) مقرر کر دیے ہیں۔ اب ہمارا تعلق براہ راست خدا سے نہیں، بلکہ انھیں شرکا سے ہے۔ ہم شرکا کے ذریعے خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔ جن کو وہ شرکا کہہ رہے تھے، وہ دراصل ان کے اپنے مفروضہ نام تھے، لیکن ان مفروضہ ناموں کو حقیقی قرار دینے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ ان کو شریک خدا (partners of God) کا نام دے دیا۔ قدیم زمانے سے لے کر اب تک تمام مشرکین نے یہی کیا ہے کہ انھوں نے بطور خود کچھ مفروضہ نام گھڑے۔ مثلاً روشنی کا خدا، بارش کا خدا، زندگی کا خدا، موت کا خدا، طاقت کا خدا، دولت کا خدا، وغیرہ۔ اس طرح کے مفروضہ خداؤں کا کوئی وجود نہیں، لیکن اس کو موجود بتانے کے لیے بطور خود اس کا ایک نام وضع کیا اور اس نام کے تحت یہ عقیدہ بنا لیا کہ خدا کا ایک پارٹنر وہ ہے جو بارش، وغیرہ کا انتظام کرتا ہے۔ شرک دراصل خدا کو مانتے ہوئے، اس کے لیے شرکا (partner) بنانے کا نام ہے۔ اصطلاح میں تعددِ آلہہ کا نظریہ (polytheism) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے پہلے دور میں شرک کی یہی قسم ساری دنیا میں رائج ہوگئی۔ اس کے بعد اس کا دوسرا دور آیا۔ اس دوسرے دور کو فلسفیوں کا دور کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور ابتدائے یونانی فلسفیوں کے درمیان شروع ہوا، اور اس کے بعد شرک کے ایک فلسفے کے طور پر وہ مختلف مذاہب کے درمیان پھیل گیا۔ اس کو ایک لفظ میں فلسفیانہ شرک کہا جا سکتا ہے۔ یہ فلسفیانہ شرک کیا ہے ۔ یہ وہی چیز ہے جس کو اصطلاحی طور پر وحدتِ وجود (monism) کہا جاتا ہے ۔ وحدتِ وجود، خدا کو مانتے ہوئے عملاً اس کے انکار کے ہم معنی ہے ۔ یہ ذہن بھی شیطان نے غلط تسمیہ کی تزئین کے ذریعے انسان کے اندر پیدا کیا۔ وحدتِ وجود کے مشرکانہ فلسفے کی اگر وضاحت کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ ـــ ہم خدا کے وجود کو مانتے ہیں، ہم اس کا انکار ہم نے صرف یہ کیا ہے کہ اس سے پہلے، خدا کو ایک محدود وجود کی شکل دے دی گئی تھی،
ہم نے خدا کے وجود کو ایک وسیعی مفہوم دے دیا ہے :
According to the monotheistic concept, God was believed to be a localized person. The monistic theory has made God an all pervading spirit. وحدتِ وجود کا تصور اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے انکار کے ہم معنی ہے، لیکن اس کے اوپر خوب صورت الفاظ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ خدا کو ماننا، محض ایک فلسفیانہ تصور کو ماننا نہیں ہے، بلکہ ایک زندہ اور قادر مطلق خدا کو ماننا ہے، یعنی ایک ایسا خدا جس کا ایک حقیقی وجود ہے، جو دیکھتا ہی اور سنتا ہے، جو تخلیق کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ محاسب اور مُجازی ہے۔ وہ روزِ حساب (day of judgement) کا مالک ہے، وغیرہ۔
اس حقیقت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ نظریہ توحید کے مطابق، خدا نہ صرف ایک وجود ہے، بلکہ اسی کے ساتھ وہ ہر قسم کی صفاتِ کمال کا مالک بھی ہے۔ لیکن وحدتِ وجود کے فلسفے میں یہ ہوتا ہے کہ خدا صرف ایک مجرد تصور (abstract concept) بن جاتا ہے۔ مجرد تصور جو تمام صفاتِ خداوندی سے خالی ہے۔ وحدتِ وجود کے تصور میں خدا ایسا ہی ہو جاتا ہے، جیسے کہ کا سمک ریز (cosmic rays) ، یا زمین کی قوتِ کشش۔ ایسے خدا کی عملی طور پر کوئی معنویت نہیں۔ اُس کا ہونا بھی ویسا ہی ہے، جیسا کہ اس کا نہ ہونا۔
عقیدہ خدا کے معاملے میں تیسری خوش نما گمراہی وہ ہے جس کو حیاتیاتی ارتقا (organic evolution) کہا جاتا ہے۔ ارتقا کا نظریہ اگرچہ بہت پہلے سے فلسفیوں کے یہاں موجود تھا، لیکن اس نظریے کو پہلی بار جس نے ایک باقاعدہ ڈسپلن کی صورت میں پیش کیا، وہ چارلس ڈارون (وفات: 1802ء) ہے۔ اس سلسلے میں چارلس ڈارون نے دو کتابیں لکھیں، جن کے نام یہ ہیں: On the Origin of Species (1859)
The Descent of Man (1871)
ڈارون نے اپنا نظریہ ارتقا صرف حیاتیاتی معنوں میں پیش کیا تھا، یعنی حیوانات اور انسان کس طرح اُس کے خیال کے مطابق، ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آئے۔ لیکن بعد کو دوسرے علما نے
اس نظریے کو توسیع دی اور ارتقائی طریق مطالعہ، دوسرے تمام شعبوں میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔ حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ، خالص سائنسی اعتبار سے، اب تک ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ ذہن اس کو صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) مانتے ہیں۔ تاہم اس وقت ہمیں نظریہ ارتقا کے اس خالص علمی پہلو کے بارے میں کوئی بحث نہیں کرنا ہے۔ اس وقت ہم نظریہ ارتقا کے صرف اُس پہلو کو لینا چاہتے ہیں، جس کا تعلق الہیات کے موضوع سے ہے۔
اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ نظریہ ارتقا، شرک کی تیسری قسم ہے جس کو سائنسی شرک کہا جاسکتا ہے۔ اس نظریے میں خدا کا انکار کیے بغیر، خدا کو عملی اعتبار سے غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ ڈارون نے اپنی کتاب (The Origin of Species) میں خدا کے وجود کا اقرار کیا ہے، لیکن یہ اقرار صرف علامتی معنی میں ہے، ورنہ ڈارون کے بتائے ہوئے حیاتیاتی ڈرامے میں خدا کا کوئی رول نہیں۔ چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) میں زندگی کو طویل ارتقائی عمل کا نتیجہ بتایا ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔ اس کے برعکس، اس کی اس کتاب میں ایک سے زیادہ مرتبہ خدا (God) کا حوالہ آیا ہے۔ اپنی اس کتاب کا خاتمہ اُس نے ان سطروں پر کیا ہے— خالق نے ابتدا میں زندگی کی ایک، یا کئی شکلیں پیدا کیں اور پھر اُس سے بہت سی انواع حیات وجود میں آگئیں۔ تخلیق کا یہ تصور کتنا عظیم ہے: There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one. ارتقا کے نظریے میں دوبارہ یہ کیا گیا ہے کہ خدا کو مان کر خدا کو ایسی حیثیت دے دی گئی ہے، جس میں خدا عملی اعتبار سے کامل طور پر غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، حیات انسانی اور تاریخ تہذیب میں خدا کا حصہ صرف اتنا ہے کہ اُس نے آغاز میں کسی نہ کسی طور پر ایک ناقابل مشاہدہ جراثومہ حیات (amoeba) کو پیدا کیا۔ اس کے بعد انسان کے سفر حیات یا اس کی تاریخ پر خدا کا کوئی کنٹرول نہیں۔ اس تاریخ کے خاتمے پر بھی خدا کا کوئی رول نہیں ہے۔ کیوں کہ اس تصور میں خدا
نہ روز جزا کا مالک ہے، اور نہ وہ انسانوں کو جزا اور سزا دینے والا ہے۔ واضح بات ہے کہ ایسے خدا کو ماننا بھی ویسا ہی ہے، جیسا کہ اس کو نہ ماننا۔ عملی اعتبار سے دونوں تصورات میں کوئی فرق نہیں۔ بعض حضرات مثلاً ایک الجزائری عالم نے اپنی عربی کتاب "قصة الإيمان بين الفلسفة والعلم والقرآن" میں نظریہ ارتقا کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ اسی طرح، پاکستان کے ایک اسکالر نے اپنی کتاب قرآن اور علم جدید میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ڈارون کے نظریۂ ارتقا اور زندگی کے بارے میں قرآن کے بیان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ میں اس نقطہ نظر کو علمی اعتبار سے درست جہاں تک الہیاتی پہلو کا تعلق ہے، یہ نظریہ بلاشبہ خدا کے انکار کے ہم معنی ہے، اور ڈارون کے نظریے کی اشاعت کے بعد مغربی دنیا میں عملاً یہی پیش آیا۔
عقیدہ توحید کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ خدا کے تصور کو کسی نہ کسی طور پر ایک بعید مفروضے کی حیثیت سے مان لیا جائے ۔ اس قسم کے تمام تصورات میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی وجود کی بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ حقیقی وجود کی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا وہی قابلِ اعتبار ہے جس میں خدا کو تصور توحید کے مطابق مانا گیا ہو۔ اس کے سوا کسی اور حیثیت سے خدا کو ماننا عملاً خدا کے انکار کے ہم معنیٰ کیوں کہ قدرتِ کاملہ کے بغیر خدا کے وجود کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ سائنس کے ظہور کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور آیا، جس کو میٹریل ازم یا مادی تہذیب کا دور کہا اس دور میں بھی کچھ انتہا پسند ملحدوں کو چھوڑ کر، خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا گیا۔ میں بھی یہی ہوا کہ خدا کو علامتی حیثیت دیتے ہوئے الہیات سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات کی ایسی خوب صورت توجیہیں کی گئیں، جس کے بعد خدا کا وجود محض ایک مفروضہ بن کر رہ جائے ، حقیقی اعتبار سے انسانی زندگی میں خدا کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔
مثال کے طور پر موجود زمانے میں جو تحقیقات کی گئیں، ان کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ سیارہ زمین کے اوپر استثنائی طور پر ایسے موافق زندگی حالات موجود ہیں جو پوری کائنات میں کسی بھی گره پر موجود اس کو آج کل کی زبان میں لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔
لائف سپورٹ سسٹم کا لفظ بظاہر ایک سادہ لفظ معلوم ہوتا ہے، لیکن جدید تصورِحیات کی روشنی میں دیکھیے تو یہ بھی غلط تسمیہ کی ایک مثال ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زندگی کی بقا اور ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ انھیں چیزوں کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَاْتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوهُ وَاِنْ تَعُدُّ وا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (14:34) یہ حقیقت پہلے بھی انسان کو مجمل طور پر معلوم تھی، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس نے اس حقیقت کو نہایت تفصیل کے ساتھ دریافت کیا ہے۔ ان چیزوں کی تفصیل اتنی زیادہ ہے کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ مثلاً سورج سے آنے والی روشنی اور حرارت، زمین کی متناسب قوتِ کشش، آکسیجن کی سپلائی کا حیرت انگیز نظام، پانی کا عظیم ذخیرہ اور بارش کا کائناتی نظام، زمین پر سبزہ اور حیوانات اور غذائی اشیا جیسے بے شمار اسباب۔ اس قسم کی ان گنت چیزیں زمین پر موجود ہیں، جن کے بغیر زمین پر نہ زندگی کی بقا ممکن ہے اور نہ تہذیب کی ترقی۔
مگر خدائی مذہب کے مطابق، یہ تمام چیزیں اصلاً صرف لائف سپورٹ سسٹم کے طور پر نہیں ہیں، بلکہ وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طور پر ہیں۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، ان چیزوں کی جو حیثیت ہے، وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم کی ہے، نہ کہ صرف لائف سپورٹ سسٹم کی۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، یہ دنیا مقامِ امتحان (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ یہاں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے، وہ اُس کو نہ حق (right) کے طور پر ملی ہے اور نہ انعام کے طور پر، بلکہ وہ صرف امتحان کے طور پر ملی ہے۔ انسان اس دنیا میں امتحان کی حالت میں ہے۔ یہ امتحان موت کے لمحے تک باقی رہتا ہے۔ انسان کو آج جو زندگی بخش چیزیں حاصل ہیں، وہ صرف اس لیے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگی اور اپنی سرگرمیوں کو باقی رکھتے ہوئے اپنا امتحان دے سکے۔ موت وہ لمحہ ہے، جب کہ امتحان کی یہ مدت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ تمام اشیاء حیات بھی صرف موت کے وقت تک اس کا ساتھ دیتی ہیں۔ اس کے بعد انسان مکمل طور پر ان چیزوں سے جُدا ہو جاتا ہے۔
خالق کے نقشے کے مطابق ، انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت
مرحلہ حیات (pre-death period) اور بعد از موت مرحلہ حیات (post-death period) آج زمین کے اوپر انسان کو جو چیزیں ملی ہوئی ہیں ، وہ چوں کہ صرف دورانِ امتحان تک کے لیے ہیں ، اس لیے امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی یہ تمام چیزیں اُس سے مکمل طورپر چھن جائیں گی ۔ اس کے بعد انسان اپنے آپ کو روزِ حساب میں پائے گا۔ وہاں خدا اس کو اس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق ، یا تو جنت میں داخل کرے گا ، یا جہنم میں ڈال دے گا۔ جنت والے لوگ مزید اضافے کے ساتھ ان چیزوں کو دوبارہ پالیں گے، اور جہنم والے لوگ ہمیشہ کے لیے ان چیزوں سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ انسانی زندگی کی اس نوعیت کو دیکھیے تو لائف سپورٹ سسٹم کا لفظ ، ایک اعتبار سے، غلط تسمیہ کی ایک مثال نظر آتا ہے۔ خالق کے منصوبے کی روشنی میں ان چیزوں کو زیادہ صحیح طور پر ٹسٹ سپورٹ سسٹم کہا جانا چاہیے ، یعنی وہ چیزیں جو انسان کو وقتی طور پر اس لیے دی گئی ہیں ، تا کہ وہ اس مرحلہ امتحان میں اپنی زندگی کو باقی رکھتے ہوئے مطلوب خدائی امتحان دے سکے۔
لائف سپورٹ سسٹم اپنے آپ میں ایک درست لفظ ہے۔ اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کی بدولت انسان کو اس زمین پر بقا اور ارتقا کا موقع ملتا ہے۔ لیکن یہ چیزیں انسان کی اپنی پیدا کی ہوئی وہ انسان کو کسی حق کی بنا پر بھی نہیں ملی ہیں۔ یہ تمام چیزیں سرتا سر خدا کا انعام ہیں۔ کا ایک منعم ہوتا ہے اور ان چیزوں کا بھی ایک منعم ہے ، یعنی اُن کو دینے والا (giver)۔ لائف سپورٹ سسٹم کا تصور موجودہ کلچر کے پس منظر میں یہ ہوا کہ انعام کو منعم سے الگ کر دیا گیا : It detached the blessing from the Giver of blessing. یہ واقعہ جو پیش آیا ، وہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ بھیانک گمراہی پیش آئی کہ محاسبہ اور مواخذہ (accountability) کا تصور لوگوں کے ذہن سے نکل گیا۔ لوگوں نے زندگی کا مقصد بس یہ سمجھ لیا کہ پیسہ کماؤ اور چیزوں کو بازار سے خرید کر کے عیش و آرام کی زندگی گزارو۔ کو صرف لائف سپورٹ سسٹم کے طور پر لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے چیزوں سے استفادہ تو کیا ، لیکن انھوں نے اس معاملے میں اپنی کوئی ذمے داری نہیں سمجھی ، جس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ایک
ایسے کلچر کو فروغ حاصل ہوا جو اس مشہور مقولے پر مبنی تھا۔ کھاؤ، پیواور خوش رہو: Eat, drink and be merry. اس کے برعکس، اگر چیزوں کے معاملے میں یہ تصور ہوتا کہ یہ سب چیزیں ٹسٹ سپورٹ سسٹم (Test Support System) کی حیثیت رکھتی ہیں، یعنی ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ یہ چیزیں انجوائے (enjoy) کرنے کے لیے نہیں دی گئی ہیں، بلکہ وہ صرف اس لیے دی گئی ہیں کہ انسان زندہ رہ کر اپنا امتحان دے سکے۔ ان چیزوں کی نوعیت وہی ہے جیسے امتحان ہال کی نوعیت ہوتی ہے۔ کوئی اسٹوڈنٹ جب تک امتحان ہال میں اپنا ٹسٹ کر رہا ہے، اُس وقت تک وہ امتحان ہال کی چیزوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اسٹوڈنٹ کے لیے امتحان ہال کی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ختم ہو جاتی ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ موجودہ دنیا میں انسان کا ہے۔ موجودہ دنیا کی حیثیت ایک بڑے امتحان ہال اس کے اندر وہ تمام چیزیں رکھی گئی ہیں جس کی ضرورت ایک اسٹوڈنٹ کو امتحان دینے کے سلسلے میں پیش آتی ہے۔ یہ چیزیں امتحان ختم تو سامان سے فائدہ اٹھانے کا وقت بھی ختم۔ ٹسٹ سپورٹ سسٹم کا یہ تصور آدمی کو پوری طرح ہلا دیتا ہے۔ وہ آخری حد تک اس کو سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ چیزوں کو اس حیثیت سے لینے کے بعد، آدمی ان چیزوں کو ذمے داری کا معاملہ سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ صرف انجوائے کرنے کی چیز۔ منعم کے تصور کے بغیر انعام کو لینا، آدمی کو سرکش اور غیر ذمے دار بنا تا ہے۔ کے برعکس، منعم کے تصور کے ساتھ انعام کو لینا، آدمی کو ماڈسٹ اور ذمے دار بنا دیتا ہے۔ علماء مذاہب کے نزدیک دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب (major religions) پائے اُنھیں میں سے ایک مذہب اسلام ہے۔ مسلم ذہن عام طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اسلام تمام مذاہب میں سب سے زیادہ افضل مذہب (superior religion) ہے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان صرف
ایک فرق پایا جاتا ہے۔ اور وہ تاریخی معنوں میں ہے، یعنی اسلام مکمل طور پر ایک محفوظ مذہب (preserved religion) ہے، جب کہ دوسرے تمام مذاہب تاریخی اعتبار سے غیر محفوظ مذہب (unpreserved religion) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہب کا نہ اوریجنل متن پوری طرح محفوظ ہے اور نہ اس کی تعلیمات اپنی اصل صورت میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے تمام مذاہب بعد کو وجود میں آنے والی کلرجی (clergy) کی پیداوار ہیں، نہ کہ اس کے اصل بانی کی وراثت۔ اس تبدیلی، یا غیر محفوظیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دیگر مذاہب سے مذہب کی اصل تعلیم ہی حذف ہوگئی۔ مذہب کی اصل تعلیم یہ ہے کہ انسان، خدا کے سامنے جواب دہ قرآن میں یہ بات انتہائی واضح طور پر موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ابتدائی وحی اتری، اس میں پہلے ہی دن یہ حقیقت موجود تھی۔ چناں چہ شروع میں اترنے والی سورہ المدثر میں کہا گیا: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَأَنْذِرُ (74:1-2) یعنی اے پیغمبر، اٹھو اور تمام انسانوں کو یہ وارننگ دے دو کہ وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہیں اور بہت جلد حساب کا ایک دن آنے والا ہے، جب کہ تمام لوگوں سے اُن کے قول اور عمل کا حساب لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق، یا تو جنت میں جگہ ملے گی، یا جہنم میں۔