Al-Risala · February 2014

یہودی مذہب

Al-Risala, February 2014, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن یہی اہم ترین تعلیم بقیہ تمام مذاہب میں بعد کے زمانے میں حذف ہوگئی۔ یہودی مذہب میں بعد کے زمانے میں، یہودی علما کی خود ساختہ تشریحات کے تحت، یہ عقیدہ یہودی مذہب میں شامل ہو گیا کہ جنت اور جہنم کا معاملہ نسلی معاملہ ہے، یعنی غیر یہودی نسل سب کی سب جہنم میں جائے گی اور یہودی نسل سب کی سب جنت میں۔ اس عقیدے نے یہودیوں کو روزِ حساب (day of judgement) کے معاملے میں کامل طور پر بے خوف بنا دیا۔ حالاں کہ اس قسم کی بے خوفی، خدا کے اصل دین کی منسوخی کے ہم معنی تھی۔

یہودی مذہب میں اس بگاڑ کا حوالہ قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ البقرہ میں

یہودی کی بابت ارشاد ہوا ہے: ’’یہود کہتے ہیں کہ جہنم کی آگ ہم کو ہرگز نہیں چھوئے گی، بجز چند دنوں کے‘‘ (2:80) اسی طرح قرآن کی سورہ المائدہ میں یہود کی بابت ارشاد ہوا ہے: ’’اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں‘‘ (5:18)۔

قرآن کی ان دونوں آیتوں کی تشریح میں مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977) نے جو کچھ لکھا ہے، اس کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں: ’’یہودی ماخذ سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا بنی اسرائیل اپنے کو آتش دوزخ کی زد سے بالکل ہی باہر اور محفوظ سمجھ رہے تھے۔ چناں چہ چیوش انسائیکلو پیڈیا میں یہ عقیدہ یوں نقل ہوا ہے: ’’آتش دوزخ، گنہگاران قوم یہود کو چھوئے گی بھی نہیں۔ اس لیے کہ وہ در جہنم پر پہنچتے ہی اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے اور خدا کے پاس واپس آ جائیں گے‘ (جلد 5، صفحہ 583)۔ اور یہود کے بڑے مقدس نوشتہ ’تالمود‘ کے انتخابات کا جو مجموعہ انگریزی میں ڈاکٹر کوہن (Kohen) کا مرتب کیا ہوا "Every Man's Library Series" میں شائع ہوا ہے، اس میں یوں آیا ہے: قیامت کے دن ابراہیم در دوزخ پر تشریف رکھتے ہوں گے اور کسی مختون اسرائیلی کو اُس میں نہ گرنے دیں گے (صفحہ 404)۔ جہنم کی آگ اسرائیلی گنہگاروں پر کوئی قدرت نہیں رکھتی (405)۔ حاصل یہ کہ بنی اسرائیل اپنی قوم کو خدا کی لاڈلی اور دلاری سمجھے ہوئے تھے اور اس پر حد سے زیادہ (تفسیر ماجدی، مطبوعہ لاہور 2001، صفحہ 32)۔

موجودہ محرف اور مسخ شدہ بائبل میں اس قسم کے حوالے موجود ہیں: خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا، بلکہ میرا پلوٹھا ہے (خروج 22 :4) تم خداوند، اپنے خدا کے فرزند ہو (استثنا 1:14) جب اسرائیل لڑکا تھا، میں نے اس کو عزیز رکھا اور اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا (ہوسیع 11 :1)۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا (جلد 6، صفحہ 15) میں بھی انھیں عقائد کی تکرار موجود ہے: جنھوں نے اُسے قبول کیا، اُس نے اُنھیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا (یوحنا 12:1) جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے ملتے ہیں، وہی خدا کے بیٹے ہیں (رومیوں 8 :14)۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مولانا عبد الماجد دریابادی کی انگریزی تفسیر (صفحہ 245)۔

Printed page