Al-Risala · February 2014

آرین مذاہب

Al-Risala, February 2014, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد آرین مذاہب کو لیجیے۔ آرین مذاہب میں مشترک طور پر کرم کا نظریہ (karma theory) پایا جاتا ہے۔ اس کو آواگون، یا پُنر جنم بھی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ

ہر آدمی اپنے عمل کے مطابق، دوبارہ جنم لے کر اسی موجودہ دنیا میں آتا ہے۔ پچھلے جنم میں اگر اُس نے اچھا کام کیا تھا تو اگلے جنم میں وہ اچھے انسان کے روپ میں پیدا ہوتا ہے، اور اگر اس نے پچھلے جنم بُرا کیا تھا تو اگلے جنم میں وہ برے انسان ، یا حیوان کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ پیدائش اور دوبارہ پیدائش (rebirth) کا یہ سلسلہ 82 لاکھ سال تک جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو ’نِروان‘ مل جاتا ہے، یعنی اس کے وجود کا قطرہ حقیقت کے سمندر میں جا کر مل جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ پراسس (process) اسباب و علل (cause and effect) کے اصول پر قائم ہے۔ اسباب وعلل کے مخفی قانون کے تحت، یہ پراسس مسلسل چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی آدمی کو عمل کے محرک سے محروم کر دیتا ہے۔ یہ نظریہ آدمی کو ایک تخیلاتی فلسفہ (imaginative philosophy) کے سوا اور کچھ نہیں دیتا۔ اس نظریے میں نہ اچھا عمل کرنے کا کوئی محرک ہے اور نہ بُرے عمل سے بچنے کا کوئی خوف۔ انسانی زندگی میں اس نظریے کا کوئی بھی تعمیری رول نہیں۔

یہ نظریہ بتاتا ہے کہ آدمی اپنے اچھے، یا بُرے عمل کا انجام پانے کے لیے اس موجودہ دنیا میں بار بار واپس آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ زمین کے اوپر زندہ حالت میں موجود ہیں، وہ سب کے سب اس سے پہلے پیدا ہو کر اس دنیا میں آئے تھے۔ موجودہ انسانی آبادی نئے انسانوں کی آبادی نہیں ہے، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو پیدا ہو کر اس سے پہلے اس دنیا میں آ چکے تھے، اور اب وہ دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں آئے ہیں۔

یہ تصور ایک خیالی نظریہ (imaginative theory) پر قائم ہے، اس کی پشت پر کوئی بھی علمی، یا عقلی دلیل موجود نہیں۔ اس تصور کے مطابق، اسباب وعلل کا جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ اُسی انسان کے اوپر پیش آتا ہے جو بار بار پیدا ہو رہا ہے اور بار بار مر رہا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ مرنے والا کوئی اور شخص ہو اور اس کے بعد پیدا ہونے والا کوئی دوسرا شخص۔ اگر دونوں شخصیتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے تو کرم کا نظریہ ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔

حیاتیاتی سائنس (biological science) کی تحقیقات کے مطابق، یادداشت، یا حافظہ (memory) انسان کی شخصیت کا لازمی جزو ہے۔ سگمنڈ فرائڈ اور دوسرے علماء نفسیات نے ثابت کیا ہے کہ حافظہ انسانی شخصیت کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ انسانی جسم کے سیل (cells) مسلسل ٹوٹتے رہتے پرانا سیل ٹوٹتا ہے اور اس کی جگہ نیا سیل لے لیتا ہے۔ سیل کی تبدیلی (replacement) کا یہ عمل مسلسل ساری عمر جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ کچھ سالوں میں جسم کے تمام سیل بدل جاتے ہیں، اور نئے سیل کے ساتھ نیا جسم وجود میں آ جاتا ہے۔

جسم کی اس تبدیلی کے باوجود انسان کا حافظہ بدستور اپنی اصل حالت میں باقی رہتا ہے۔ حافظے کے اندر ادنیٰ درجے میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ جس طرح موت سے پہلے کی جسمانی تبدیلی سے، انسان کا حافظہ اس کی شخصیت سے جدا نہیں ہوتا، اسی طرح موت کے بعد کی جسمانی تبدیلی سے بھی آدمی کے حافظے کو اس کی شخصیت سے جدا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے، جس کا انکار کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ مفروضہ (کرما تھیوری) کے مطابق، جو انسان موت کے بعد بار بار پیدا ہو رہے ہیں، وہ سب کے سب اپنے سابقہ حافظے کے بغیر پیدا ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی عورت یا مرد کو اپنے ماضی کی زندگی یاد نہیں۔ حالاں کہ حیاتیاتی قانون کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس قانون کے مطابق، ہر ایک کے حافظے میں اس کی پچھلی زندگی مکمل طور پر محفوظ ہونا چاہیے، جو کہ بطور واقعہ موجود نہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے نے جس طرح بہت سے دوسرے مفروضات کو بے بنیاد ثابت کیا ہے، اسی طرح مذکورہ مفروضہ بھی اب ایک بے بنیاد مفروضہ ثابت ہو چکا ہے۔ حیاتیاتی سائنس کا جدید مطالعہ اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب ٹینپیا کے دوران اپنا دھیان لگایا تھا تو اس میں انھوں نے اپنی باطنی نظر سے اپنے تمام پچھلے جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ ہے کہ انھوں نے اپنے دھیان کے دوران خود اپنے فرضی تصورات کو محسوس کیا تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں

اپنی زندگی کی تاریخ کو سائنسی طریقے کے مطابق ، اس قسم کا دعویٰ بلاشبہ قابلِ رد ہے۔ اپنی زندگی کی تاریخ لو۔ سائنسی طریقے کے مطابق، اس کم کا دعویٰ بلا شبہہ قابلِ رد ہے۔ اس لیے کہ وہ قابلِ تصدیق (verifiable) یا قابلِ اعادہ (repeatable) نہیں۔ اور جو نظریہ قابلِ تصدیق یا قابلِ اعادہ نہ ہو، وہ سائنس کے قائم کردہ اصول کی بنا پر قطعیت کے ساتھ قابلِ رد قرار پا تا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذہبی نظریات صرف مفروضہ نظریات ہیں۔ ان سب کے اندر یہ مشترک کمی پائی جاتی ہے کہ وہ انسانی اخلاقیات کے لیے طاقت ور محرک (strong incentive) نہیں دیتے۔ اور جو مذہب انسانی اخلاقیات کے لیے طاقت ور محرک فراہم نہ کرے، وہ صرف ایک مفروضہ فلسفہ ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی خدائی مذہب۔ ادارۂ المورد (لاہور، پاکستان) کی اردو اور انگریزی مطبوعات (میزان، البیان، وغیرہ) گڈ ورڈ بکس میں دستیاب ہیں۔ ان کو یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

صدر اسلامی مرکز کے ویڈیو لیکچرز حسب ذیل ویب سائٹ پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں: پٹنہ (بہار) کے سنٹر فار پیس کے آفس میں ہر ماہ کے دوسرے اتوار کی صبح 10.30 بجے ممبران کی میٹنگ ہوتی ہے۔ پتہ حسب ذیل ہے:

A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744 مہاراشٹر میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Near City Chowk, Aurangabad-431001, M.S.

Printed page