Al-Risala · March 2015

اسلامی تربیت

Al-Risala, March 2015, pp. 3–5

By Maulana Wahiduddin Khan

الرساله مشن کے تحت انڈیا کے ایک شہر میں ایک اجتماع کیا گیا۔ یہ اجتماع تربیتی مقصد کے لئے کیا اجتماع کے بعد الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ ہم اجتماع میں تربیت کے لئے شریک ہوئے تھے، مگر یہاں تربیت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ مجھ کو اس اجتماع سے کوئی تربیتی فائدہ نہیں ملا۔ یہ تبصرہ ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے زمانے میں تربیت اور تربیتی کیمپ کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا۔ اس سے لوگوں کے ذہن میں تربیت کا ایک روایتی ماڈل (traditional model) لوگ اسی کو تربیتی کام سمجھنے لگے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا یہ روایتی ماڈل موجودہ زمانے میں ایک غیر متعلق ماڈل (irrelevant model) بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں تربیت کے نام پر سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن یہ تربیتی سرگرمیاں عملاً بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔ تربیت کا روایتی تصور مبنی بر فارم تصور ہے۔ اس کے برعکس، الرسالہ مشن میں تربیت کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ مبنی براسپرٹ تصور ہے۔ مبنی براسپرٹ تربیت ہی کو ہم قرآن کا طریق تربیت سمجھتے ہیں۔ یہ طریقہ نظری اعتبار سے بھی درست ہے، اور عملی تجربہ کے اعتبار سے بھی یہی طریقہ مفید ثابت ہوا ہے۔ مذکورہ تربیتی اجتماع میں جو باتیں کہی گئی تھیں، ان میں سے دو باتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ سے اندازہ ہوگا کہ الرسالہ مشن میں تربیت کا جو نہج (method) اختیار کیا گیا، وہ کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں بظاہر تربیت کے نام سے نہیں کہی گئی تھیں، لیکن عملاً اس کا تعلق تربیت ہی سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تربیت دراصل سوچ کا نام ہے۔

1 - مذکورہ اجتماع میں ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ حق کا داعی وہ ہے جو اپنے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا کرے۔ وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے اپنی معرفت کو بڑھائے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے سوال کا جواب معلوم کرے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے دعوت کا پروگرام بنائے ۔ دعوت کا کام کوئی روٹین کا کام نہیں ہے، دعوت کا کام ایک تخلیقی کام ہے۔ دعوت کا کام مؤثر طور پر وہی لوگ

انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کی صلاحیت موجود ہو۔ 2- اجتماع کے موقع پر دوسری بات وہ تھی جو قرآن کی ایک آیت کو لے کر کہی گئی۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہو جائے۔

بتایا گیا کہ اس آیت کے دو حصے ہیں۔ ایک، وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، اور دوسرا، ويكون الدين كله للہ۔ نحوی اعتبار سے پہلا حصہ امر کے صیغے میں ہے، اور دوسرا حصہ خبر کے صیغے میں یعنی فتنہ کو ختم کرنے کے لئے تو اہل ایمان کو لڑنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو، دین کا اللہ کے لئے ہو جانا، اپنے آپ وقوع میں آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب فتنہ کا دور ختم ہو جائے تو اس کے بعد وہ وقت آ جاتا ہے جب کہ پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے۔ پھر بتایا گیا کہ قرآن کی اس آیت میں دراصل ایک دور کے خاتمہ اور دوسرے دور کے آغاز کی بات کہی گئی ہے۔ آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی تشدد (religious persecution) کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدیم تاریخ میں مذہبی تشدد کا کلچر قائم ہوا، وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھا۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ مذہب کے معاملے میں انسان کو آزادانہ اختیار (free choice) مگر قدیم زمانے میں مذہبی تشدد کے کلچر نے یہ کیا کہ انسان کے لئے ایک ہی چوائس کا امکان باقی رہا، یعنی غالب کلچر کا چوائس۔ یہ حالت خالق کے نقشے کے مطابق نہ تھی اس لئے اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ مذہبی تشدد کے دور کو ختم کر دو تا کہ تخلیق کے مطابق فطری حالت قائم ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق رسول اور اصحاب رسول کے بعد تاریخ میں جو دور آیا ہے، وہ مواقع کا دور (age of opportunities) ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ منفی سوچ کو یکسر ختم اب اہل ایمان کے لئے یہ جواز باقی نہیں رہا کہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لیں، اور پھر اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا معاملہ کریں۔ اب اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ زمانے کی اسپرٹ کو سمجھیں، وہ مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے پر امن طور پر اللہ کا پیغام سارے اہل عالم تک پہنچا دیں۔ تربیت اصلاح سوچ کی

تربیت کا نام ہے، نہ کہ مسائل بتانے کا نام۔

تربیت کا جو طریقہ عام طور پر رائج ہے، اس میں یہ ہوتا ہے کہ مربی (trainer) لوگوں سے اس طرح کی باتیں کہتا ہے کہ آپ اچھے طریقے کو اپنی عادت میں شامل کیجئے، آپ تہجد کی عادت ڈالئے، آپ الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہنے کی عادت ڈالئے، آپ ہر کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کی عادت اس طرح کی باتیں تربیت کی تصغیر(underestimation) ہیں۔ تربیت دراصل ذہن سازی کا نام ہے، نہ کہ عادت سازی کا نام۔

فطرت کے اصول کے مطابق آدمی جو کام بھی کرتا ہے، وہ اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ حقیقی تربیت یہ ہے کہ آدمی کے طرزِ فکر (art of thinking) کو درست کیا جائے، آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ صحیح انداز میں سوچے، وہ صحیح انداز میں چیزوں کا تجزیہ کرے، وہ اپنے آپ کو متعصبانہ طرزِ فکر سے بچائے، اور موضوعی اندازِ فکر (objective thinking) کے مطابق چیزوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔ مثلاً، یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ سنی ہوئی باتوں کو مان لیتے ہیں، اور اس کو دہرانے لگتے ہیں، یہ طریقہ غلط ہے۔ صحیح تربیت وہ ہے جو اس معاملے میں لوگوں کو باشعور بنائے۔ اسی طرح عام طور پر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ تنقید اور تنقیص کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ نہایت آسانی سے کسی کے بارے میں منفی رائے زنی کرنے لگتے ہیں۔ اس معاملے میں تربیت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر تنقید کریں۔ جس معاملے میں ان کے پاس ثابت شدہ مواد موجود نہ ہو، اس معاملے میں وہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔

تربیت اس کا نام نہیں ہے کہ لوگوں کو صحیح اور غلط (dos and don'ts) کی زبان میں کچھ مسائل بتا دیئے جائیں۔ تربیت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بات کو اس طرح مدلل انداز میں بیان کیا جائے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ جس کو سن کر مخاطب سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ تربیت خود فکری (self thinking) کا نام ہے۔ تربیت کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنا مربی خود بن جائے، وہ اپنا محاسبہ آپ کرنے لگے۔

Printed page