Al-Risala · March 2015

فقہی مسائل میں اختلاف

Al-Risala, March 2015, pp. 8–11

By Maulana Wahiduddin Khan

فقہی مسائل میں اختلاف کا معاملہ زیادہ تر عبادت کے طریقوں میں اختلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: صلوا كما رأيتموني أصلي (صحیح البخاری: 631) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: خذوا عني مناسككم (سنن الکبری للبیہقی: 9524) یعنی مناسک میں میری پیروی کرو۔

اس طرح کی احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی غیر اختلافی لیکن رسول اللہ کے بعد صحابہ عملی اعتبار سے قابلِ تقلید نمونہ بن گئے۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ مختلف بیرونی علاقوں میں پھیل گئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ صحابہ کے عبادتی طریقوں میں کامل یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ مثلا نماز میں قرأت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا یا نہ پڑھنا، امام کے پیچھے مقتدی کا قرأت فاتحہ کرنا یا نہ کرنا، نماز میں آمین بالسّر اور آمین بالجهر کا اختلاف، وغیرہ۔ صحابہ کے درمیان اس قسم کا اختلاف (صحیح تر لفظ میں فرق) پہلے بھی موجود تھا، مگر پہلے اس فرق کو بحث کا موضوع نہیں بنایا جاتا تھا۔ بعد کے زمانے میں جب کہ مسلم معاشرے میں نو مسلموں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اس فرق پر سوال کیا جانے لگا۔ اب اس اختلاف کو موضوع بنا کر یہ سوال کیا جانے لگا کہ ان میں سے صحیح تر ماڈل کون سا ہے۔ یہ نو مسلم جن مذاہب سے نکل کر آئے تھے، وہاں انھوں نے دیکھا تھا کہ اس قسم کے فرق کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس قسم کے فرق کی بنیاد پر دوسرے مذاہب میں الگ الگ فرقے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اس قدیم ذہن کو انھوں نے اسلام پر بھی منطبق (apply) کر دیا۔ ذہن کے تحت وہ اس وقت کے مسلم علما سے سوالات کرنے لگے۔ یہی وہ ظاہر ہے جس نے اسلام میں مذہبی فرقہ بندی کے دور کا آغاز کر دیا۔

اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیشگی ہدایت کے طور پر موجود تھی۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم (مشكاة المصابيح : 6018)،

یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر اس حدیث کے مطابق صحابہ کے درمیان عبادت کے طریقوں میں اختلاف تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، یعنی ہر طریقہ جو کسی صحابی سے ثابت ہو وہ یکساں طور پر درست ہے۔ عقلی طور پر تنوع کا یہ طریقہ قابل فہم تھا، کیوں کہ صحابہ کا اختلاف یا فرق صرف جزئیات (non-basics) میں تھا، وہ کلیات (basics) میں نہ تھا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فطری قانون کے مطابق جزئیات میں ہمیشہ فرق پایا جاتا ہے، جزئیات میں یکسانیت (uniformity) کا حصول ممکن نہیں۔

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر یہ اختلاف مسلکی شدت کا سبب بن گیا۔ جب کہ یہ اختلاف خود صحابہ میں موجود تھا، مگر صحابہ کے درمیان ان اختلافات کی بنیاد پر کوئی مسلکی تشدد نہیں پیدا اس کا سبب واضح طور پر یہ تھا کہ صحابہ مختلف طریقوں پر عبادت کرتے تھے لیکن ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں طریقہ افضل ہے، اور فلاں طریقہ غیر افضل۔ وہ مختلف طریقوں پر اس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہر طریقہ یکساں طور پر درست ہو۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ انہی اختلافات کو لے کر امت مختلف فرقوں، بلکہ متخارب گروہوں میں بٹ گئی۔ جب کہ اس قسم کا تحزب شریعت میں سخت نامحمود (30:32) ہے۔ معاملے میں اصل غلطی دورِ اول کے علمائے فقہ کی ہے، جن کو ائمہ مجتہدین کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس اختلاف کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ ان اختلافات کو بطور خود وہ درجہ دے دیا، جو کہ شریعت میں ان کا درجہ نہ تھا، اور نہ کسی صحابی نے ان اختلافات کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ دورِ اول کے ان فقہاء نے یہ کیا کہ انھوں نے ترجیح (preference) کے نام سے بطور خود ایک اصول وضع کیا۔ انھوں نے لمبی بحثیں کر کے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اختلافات کو بیان کیا، اور پھر ایک مسلک کو لے کر کہا کہ ھذا أحوط (یہ زیادہ محتاط طریقہ ہے)، ھذا أفضل (یہ زیادہ افضل طریقہ ہے)۔ انھوں نے بطور خود ایک مسلک کو اولیٰ اور دوسرے مسلک کو غیر اولیٰ قرار دیا۔ یہ بلاشبہ علمائے فقہ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ یہی وہ اجتہادی غلطی ہے جس نے امت میں فقہی تشدد کا آغاز کر دیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔

یہ انسان کی نفسیات ہے کہ اس کے لئے جب انتخاب افضل اور غیر افضل کے درمیان ہو تو وہ ہمیشہ افضل کا انتخاب کرے گا۔ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کے دلائل دے گا۔ کے زمانے میں انسان کی یہی نفسیات بروئے کار آئی، اور فقہی مسلک میں اختلاف کے نتیجے میں نفرت اور تشدد حتیٰ کہ جنگ تک کو جائز کر لیا گیا۔

اس معاملے میں دورِ اول کے علما کو بری الذمہ قرار دینے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مسلک کو قابلِ ترجیح قرار دینے کے باوجود وہ مسلک کے بارے میں متشدد نہ تھے۔ مثلاً حنفی اور شافعی فقہاءءنماز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ مالکی فقہا اس کے قائل نہ تھے، مگر دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کی۔ اسی طرح امام شافعی فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ امام ابو حنیفہ اس کے قائل نہ تھے، مگر جب امام شافعی امام ابو حنیفہ کے مقبرہ کے پاس گئے اور وہاں فجر کی نماز ادا کی تو انھوں نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، وغیرہ۔ مگر اس طرح کا عمل صرف انفرادی اخلاق کو ثابت کرتا ہے، اور شرعی اختلاف کے حل کے لئے شرعی اصول درکار ہے، نہ کہ انفرادی اخلاق۔ دینی امور میں جب کسی ایک طریقہ کو دوسرے طریقے کے مقابلے میں افضل بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ افضل طریقہ میں زیادہ ثواب ہے، اور غیر افضل طریقہ میں کم ثواب ہے۔ عالم اگر افضلیت اور غیر فضلیت کی زبان میں اس طرح کا مسئلہ بتائے، اور اس کے بعد مخالف مسئلہ بتانے والے عالم کے پیچھے ایک بار نماز پڑھ لے تو اس قسم کے عمل سے فقہی تشدد ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کا یہ عمل لوگوں کی نظر میں ذاتی نوعیت کا ایک اخلاقی برتاؤ یا حسن معاشرت قرار پائے گا، نہ کہ کوئی شرعی مسئلہ۔ ایک حقیقت ہے کہ جب حسن معاشرت اور دینی افضلیت کے درمیان انتخاب (choice) ہو تو آدمی ہمیشہ اس طریقے کو لے گا جس کو افضل بتایا گیا ہے، اور غیر افضل پر عمل کرنے والے کو کم تر سمجھے گا۔ طرح کے شرعی معاملے میں حسن معاشرت کبھی فیصلے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ مزاج یقیناً بڑھتے بڑھتے آخر کار فقہی تشدد اور گروہی تحزب کی صورت اختیار کرلے گا۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ امت کے اندر بعد کے زمانے میں جو فقہی تشدد اور مسلکی تحزب پیدا ہوا،

اس کا سبب خود دین کی تعلیمات میں نہ تھا۔ اس کا سبب تمام تر علمائے متقدمین کی اس اجتہادی غلطی میں تھا کہ انھوں نے غیر ضروری طور پر ایک ایسے معاملے میں تو حد کا اصول اختیار کیا جوکہ در اصل توسع کا معاملہ ایک دینی اختلاف جو دراصل توسع (diversity) کی بنا پر تھا، اس کے معاملے میں انھوں نے تو حد (uniformity) کے اصول کو منطبق کرنا چاہا۔ ان کی یہ کوشش یقینی طور پر غیر فطری تھی، اس بنا پر تو حد کے نام پر کی جانے والی کوشش تشدد کا ذریعہ بن گئی، اور آخر کار امت واحدہ، امت متفرقہ میں تبدیل ہو کر رہ اس واقعے کی ذمے داری ساری کی ساری فقہائے متقدمین پر ہے۔ اس صورتِ حال کی اصلاح صرف اس وقت ہو سکتی ہے، جب کہ فقہائے متقدمین کے بارے میں یہ مانا جائے کہ انھوں نے بطور خود اختلافی مسائل کے حل کے لئے جو طریقہ اختیار کیا وہ ان کی ایک اجتہادی غلطی تھی، اور اب وہ وقت آگیا ہے جب کہ اس غلطی کی تصحیح کر دی جائے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل آن لائن الرسالمہ مشن کی مختلف فکری اور دعوتی سرگرمیوں کو جاننے، اور مشن کے مضامین اور تقاریر کو سننے کے لیے وزٹ کریں: قرآن انٹرنیشنل (عالمی دعوت ورک) فیس بک پیچ القرآن مشن (ڈیلی قرآنی آیت) فیس بک پیچ القرآن مشن (ڈیلی قرآنی آیت) ٹیوٹر پیچ حکمت و دانائی (اردو اقتباس) فیس بک پیچ مولاناوحید الدین خان (ڈیلی انگلش اقوال زریں) ٹیوٹر پیچ سی پی ایس انٹرنیشنل ٹیوٹر پیچ سی پی ایس انٹرنیشنل فیس بک پیچ اسپرٹ آف اسلام (انگلش منتھلی میگزین) فیس بک پیچ مولاناوحید الدین خاں (آڈیو اور ویڈیو لیکچر) فیس بک پیچ مولاناوحید الدین خان (ڈیلی انگلش اقوال زریں) فیس بک پیچ

Printed page