جنت کی زندگی
Al-Risala, January 2015, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ فصلت میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کے لئے جنت کی زندگی کیسی ہوگی۔ سلسلہ میں فرشتوں کی زبان سے ان کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)۔ یعنی اور تمھارے لئے وہاں وہ سب ہے، جس کو تمھارا دل چاہے، اور تمھارے لئے وہاں وہ سب ہے، جس کو تم طلب کرو۔
قرآن کی اس آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ اشْتہاء اور ادعاء۔ اشْتہاء کا مطلب ہے چاہنا (to desire)، اور ادعاء کا مطلب ہے طلب کرنا (to demand)۔ یہ دونوں الفاظ جنت کی دو مختلف نعمتوں کو بتا رہے ہیں، اور وہ ہیں مادی نعمت اور فکری نعمت۔ اشتہاء میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کا تعلق مادی خواہش (material desire) سے ہے، اور ادعاء میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کا تعلق ذہنی طلب (intellectual demand) سے ہے۔ جنت میں یہ دونوں قسم کی نعمتیں اہل جنت کو کامل درجے میں حاصل ہوں گی۔ جب کہ موجودہ دنیا میں ان چیزوں کا حصول صرف محدود طور پر ممکن ہوتا ہے۔ انسان کی جو مادی خواہشیں ہیں، وہ اسے موجودہ دنیا میں بھی حاصل ہیں، لیکن صرف محدود طور پر۔ انسان اپنے پیدائشی مزاج کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر خواہش اس کو لامحدود طور پر حاصل ہو۔ موجودہ عارضی دنیا میں خواہشات کی لامحدود تسکین ممکن نہیں۔ جنت میں یہ محدودیت ختم ہو جائے گی۔ ایک لامحدود دنیا ہوگی۔ اس لئے وہاں اہل جنت کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی ہر خواہش کی تکمیل لامحدود طور پر حاصل کر سکیں۔ یہی معاملہ انسان کی ذہنی طلب (intellectual demand) کا ہے۔ انسان کے اندر تفکیر (thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے تفکیر کی عمل (thinking process) کو لامحدود طور پر جاری کر سکے۔ مگر موجودہ دنیا میں جو دستیاب فریم ورک (available framework) ہے، وہ محدود فریم ورک ہے۔ اس لئے یہاں وہ اپنے تفکیر کی عمل کو صرف محدود طور پر جاری کر سکتا ہے۔ جنت میں یہ محدودیت ختم ہو جائے گی، اس لئے جنت
میں اہل جنت کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنے تفکیری عمل کو لامحدود طور پر جاری کر سکے۔ موجودہ دنیا میں ان کا تفکیری عمل زمان ومکان کے اندر (within space and time) جاری ہوتا ہے۔ جنت کی لامحدود دنیا میں ان کے تفکیری عمل کا زمان ومکان کے ما وراء (beyond space and time) جاری ہونا ممکن ہو جائے گا۔ موجودہ محدود دنیا میں یہ فکری نعمت ممکن نہیں، مگر جنت کی لامحدود دنیا میں یہ انوکھی فکری نعمت اہل جنت کے لئے آخری حد تک قابل حصول ہو جائے گی۔ اسی طرح انسان کی ایک اور فکری طلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے درمیان رہے، جن کی ویولینتھ (wavelength) ایک ہو، جواپنے ذوق اور اپنی عادات کے لحاظ سے اعلیٰ معیار کے حامل ایسے اعلیٰ افراد پر مشتمل معیاری سماج (ideal society) موجودہ دنیا میں کبھی بن نہیں سکتا۔ موجودہ دنیا میں اعلیٰ افراد کا حصول ممکن ہے، لیکن اجتماعی سطح پر اعلیٰ سماج کا حصول ممکن نہیں۔ جنت، اہل حق کی اسی طلب کا جواب ہے۔ جنت میں یہ ہوگا کہ اللہ اپنی قدرت سے پوری تاریخ کے منتخب اعلیٰ افراد کو یکجا کر دے گا۔ اس بنا پر جنت حسن رفاقت کا سماج (النساء: 69) بن جائے گا۔ طرح جنت میں اہل جنت کی یہ طلب پوری ہو جائے گی۔ یہ منتخب افراد جنت میں اپنی پسند کا وہ اجتماعی ماحول اعلیٰ صورت میں پالیں گے، جو ان کا اجتماعی مطلوب تھا، لیکن دنیا کی زندگی میں اس کو پانا ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا۔ آخرت میں اللہ کی خصوصی عنایت سے یہ ناممکن چیز ان کے لئے ممکن ہو جائے گی۔ جنت کی اسی نادر صفت کی بنا پر، جنت کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (32:17) یعنی کوئی نہیں جانتا کہ ان لوگوں کے لئے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ طرح ایک حدیث قدسی میں جنت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: أعددت لعبادي الصالحين: مالا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر ( صحیح البخاری: 3244) یعنی میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے ایسی چیز تیار کر رکھی ہے، جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، اور نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔