Al-Risala · March 2015

تدبر کا میدان

Al-Risala, March 2015, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مضمون قرآن کی دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31:27) یعنی اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ، روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں کلمات اللہ سے مراد اللہ کے تخلیقی کرشمے (creative marvels) یہ تخلیقی کرشمے بے شمار ہیں۔ ان کی دریافت صرف عقلی غور و فکر کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن کی اس آیت میں تدبر و تفکر کا میدان بتایا گیا ہے۔ کلمات اللہ میں تدبر کا میدان اتنا زیادہ وسیع ہے کہ وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لئے اتاری تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور یہاں تدبر سے مراد فنی تدبر نہیں ہے، بلکہ عقلی تدبر ہے۔ عقلی تدبر ایک بے حد وسیع اس کا دائرہ قرآن سے لے کر ساری کائنات تک پھیلا ہوا ہے۔

اصل یہ ہے کہ قرآن میں حقائق کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ قرآن میں صرف اشارات بتائے تدبر سے مراد قرآن کے اشارات کی روشنی میں تمام موجودات پر تدبر ہے۔ یہی تدبر معرفت کا خزانہ ہے۔ اس تدبر سے قرآن کے خدا کا کلام ہونے پر یقین بڑھتا ہے، معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، تخلیق کی حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، چھپی ہوئی حقیقتوں کی دریافت ہوتی ہے۔ تدبر کا یہی عمل ہے جس کے ذریعہ وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔ تدبر کا معیار قرآن کے مطابق تذکر (admonition) ہے، یعنی اپنے لئے نصیحت حاصل کرنا۔ و روحانی ارتقا کا سامان کرنا۔

Printed page