Al-Risala · March 2015

قبولِ قیادت کا فقدان

Al-Risala, March 2015, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ زمانے کے مسلمانوں میں جس چیز کی کمی ہے، وہ فقدانِ قیادت نہیں ہے، بلکہ فقدانِ قبولیتِ قیادت یعنی مسلمانوں کے اندر خود فطری قانون کے مطابق، قیادت موجود ہے، مگر قیادت کو ماننے کا مزاج ان کے اندر موجود نہیں۔ اس معاملے پر غور کیجئے تو اُس کی جڑ یہ معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بعض اسباب سے، نہایت جذباتی ہو گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے درمیان صرف اِس قیادت کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے جو ہائی پروفائل (high profile) میں بولے، لو پروفائل (low profile) میں بولنے والے شخص کو اُن کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ اور تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ ہائی پروفائل میں بولنے والا شخص صرف اپنی قوم کی تباہی میں اضافہ کرتا ہے۔ امت کا یہ مزاج زوال کی بنا پر پیدا ہوا ہے۔ اس مزاج کی اصلاح صرف گہری منصوبہ بندی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس گہری منصوبہ بندی کا پہلا جز یہ ہے کہ امت کی اصلاح کا آغاز ہرگز اقدام سے نہ کیا جائے، بلکہ ذہنی تیاری سے کیا جائے ۔ موجودہ زمانے میں اصلاح امت کے نام سے بہت سی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب نا کام ہو گئیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان تحریکوں نے اپنے کام کا آغاز اقدام سے کیا۔ اس قسم کا آغاز گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse) کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے امت کے افراد میں تعمیری شعور پیدا کیا جائے۔ یہ کام صرف خاموش جدوجہد کے ذریعہ ممکن ہے۔ شور وغل اور جلسہ جلوس کا طریقہ کبھی تعمیر شعور کے لئے مفید نہیں امت کی اصلاح کا کام جتنا زیادہ ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بات بھی ہے کہ اس اصلاح کے لئے صحیح طریقہ اختیار کیا جائے۔ اصلاح کا غیر فطری طریقہ صرف وقت اور طاقت کے ضیاع کے ہم معنی ایسا کرنے سے اصلاح امت کے کام میں صرف تاخیر ہوگی، اس کے ذریعہ مطلوب اصلاح ہونے والی نہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔

خدا کی زبان ہو سکتا ہے کہ آپ شیخ سعدی شیرازی (وفات: 1291ء) ایک فارسی شاعر تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب گلستان میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ ایک بار وہ ایک سفر میں تھے۔ اس دوران ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ انھوں نے اس سے بات کرنا چاہا تو بات نہ ہوسکی۔ کیونکہ وہ ترکی کا رہنے والا تھا۔ وہ ترکی کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا۔ اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب میں یہ شعر لکھا ہے: زبانِ یار من ترکی و من ترکی نمی دانم موجودہ زمانہ میں کچھ اسی قسم کا معاملہ انسان اور قرآن کے درمیان ہوا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے متلاشی حق (seeker of Truth) ہے۔ وہ اپنے خالق کو دریافت کرنا چاہتا ہے مگر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خالق کی محفوظ کتاب عربی زبان میں ہے مگر میں عربی زبان نہیں جانتا: The language of the divine book is Arabic and I don't know Arabic. اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن کا ایسا ترجمہ کیا جائے جو بآسانی قابل فہم (easily understandable) ہو اور پھر اس کو تمام قوموں تک پہنچایا اس کام کی اہمیت کی بنا پر اس کو ترجیحی بنیاد (priority basis) پر کیا جاناچاہئے- ۔ زمانے میں امتِ مسلمہ کی یہ سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی دوسرا کام اس کا بدل (alternative) نہیں بن سکتا۔

ظالم کے خلاف جہاد، حکومت اسلامی کے ہنگامے، ملی کام (community work)، اسلامی قانون کا نفاذ جیسے کام جن میں موجودہ زمانہ کے مسلمان مشغول ہیں وہ سب کے سب اصل فریضہ کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔

Printed page