Al-Risala · January 2015

دانش مند کون

Al-Risala, January 2015, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ النحل میں شہد کی مکھی (bee) کی مثال دی گئی ہے کہ وہ کس طرح سفر کر کے آتی ہے، اور پھول سے اس کا رس (nectar) لے کر واپس چلی جاتی ہے۔ اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ (16:69) یعنی بے شک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں نشانی سے مراد یہ ہے کہ اس واقعہ میں اہل فکر کے لیے سبق ہے۔ اس مثال میں ایک مادی واقعہ کے ذریعہ ایک غیر مادی سبق (non-material lesson) دیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ شہد کی مکھی کی طرح ہر تجربہ سے ایک حکمت کی بات اخذ کرے۔

Printed page