To extract wisdom from every experience.
Al-Risala, January 2015, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
جس طرح شہد کی مکھی یہ کرتی ہے کہ وہ آس پاس کی دوسری چیزوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک چیز کو دیکھتی ہے، اور وہ پھول کے اندر پایا جانے والا نیکٹر کنٹینٹ (nectar content) ہے۔ طرح دنیا کی تمام مادی چیزوں کے اندر ایک اسپرچول کنٹینٹ (spiritual content) موجود ہوتا ہے۔
آدمی کو اتنا زیادہ تیار ذہن (prepared mind) ہونا چاہئے کہ وہ جس چیز کو دیکھے، اس پر جو تجربہ گزرے، ہر چیز سے اس کے سبق والے جزء کو اخذ کرلے۔ وہ آس پاس کی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک چیز پر فوکس کرے، اور وہ چیزوں کے اندر سبق کا پہلو ہے۔ کے اندر سے ان کے سبق کے پہلو کو لے، اور اس کے بعد زندگی کے سفر میں آگے بڑھ جائے ۔ سبق کے اس پہلو کو لے سکے، وہی دانش مند آدمی ہے، اسی کے اندر اس اعلیٰ شخصیت کی تعمیر ہوگی جس کو دانش مند شخصیت کہا جاتا ہے۔
لگی سلامیّوں کے آگے انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :الَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا الموت والحيوۃ ليبلوكم أيكم احسن عملا ) (۶۷:۲)
تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون حسن عمل والا ہے :