Al-Risala · March 2015

اصلاح امت

Al-Risala, March 2015, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

قال مالك: كان وهب بن كيسان يقعد إلينا - ثم لا يقوم أبد ا حتى يقول لنا إنه لا يُصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها، قلت له: يريد ماذا؟ قال يريد التقى (مسند المؤطا للجوهري: 783) یعنی مالک ابن انس (وفات: 179ھ) نے کہا کہ وہب ابن کیسان تابعی (وفات: 127ھ) جب بھی ہمارے پاس آتے تو ہم سے وہ ہمیشہ یہ کہتے اس امت کے آخری حصہ کو وہی چیز درست کرے گی جس نے اس کے پہلے حصہ کو درست کیا۔ میں (راوی) نے پوچھا کہ اس سے ان کی مراد کیا ہوتی انھوں نے کہا کہ ان کی مراد ہوتی تھی: تقویٰ۔

تقویٰ کا لفظ اسپرٹ (spirit) کو بتاتا ہے۔ اس روایت میں اگر چہ بظاہر اصلاح امت کا حوالہ ہے، لیکن اس سے مراد مصلح (پیغمبر) کے طریقہ کو بتانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلح اول کے جس طریقہ سے امت اصلاح یافتہ ہوئی تھی، بعد کے مصلحین کو بھی یہی کرنا ہے کہ اسی طریقہ کے مطابق امت کو اصلاح یافتہ بنائیں۔ مصلح اول کا یہ طریقہ آپ کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے مصلح اول تھے۔ آپ کو مکہ میں حکومت کا عہدہ پیش کیا گیا تو آپ نے کہا میرا مقصد تمھارے اوپر حکومت کرنا نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوت و اصلاح کا کام غیر سیاسی (non-political) انداز میں ہونا چاہئے۔ قدیم مکہ میں کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر آپ نے اپنی تحریک کا آغاز تطہیر کعبہ سے نہیں کیا، بلکہ تطہیر ذہن سے کیا۔ میں جب مخالفت زیادہ بڑھی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقوق کے نام پر لڑائی لڑنے کے بجائے اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ نئے مواقع کار دریافت کریں۔ مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے وہاں کے لوگوں کے سامنے کبھی مکہ والوں کی شکایت نہیں کی، بلکہ مثبت طور پر دعوت کا کام اس سے معلوم ہوا کہ ظلم کے خلاف چیخ و پکار رسول اللہ کا طریقہ نہیں، وغیرہ۔ آج بھی دعوت واصلاح کا صحیح طریقہ ہے۔

Printed page