کے اردلی رو د پیدائی
Al-Risala, January 2015, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا تخلیقی نقشہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کو مختلف حالات میں زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے، اور پھر ان افراد کا انتخاب کیا جائے جو زندگی کے مختلف احوال کے درمیان یہ ثابت کرتے ہوں کہ وہ اپنے قول و عمل میں اعلیٰ معیار پر قائم رہنے والے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں خالق کا منصوبہ مبنی بر فرد منصوبہ ہے، نہ کہ مبنی بر اس نقشہ تخلیق کے مطابق پوری تاریخ سے ایسے افراد منتخب کیے جارہے ہیں، جو ہر آزمائش کے بعد حسن عمل کے معیار پر پورے اتریں۔ ایسے جو افراد پائے جائیں، ان کو پوری تاریخ سے منتخب کر لیا جائے گا، اور پھر ان منتخب افراد کو جنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا، جہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی گزاریں گے۔
خالق کا تخلیقی منصوبہ یہ نہیں ہے کہ دنیا میں معیاری نظام قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) کا قائم ہونا ممکن نہیں۔ یہاں صرف معیاری افراد بن یہی معیاری افراد خالق کا اصل مطلوب ہیں۔
تاریخ کے خاتمہ پر ان معیاری افراد کو پورے انسانی مجموعہ سے منتخب کر لیا جائے گا۔ ںوں کے ساتھ پ، ی ، و وغیرہ انھیں منتخب افراد کے سماج کا نام ہے۔