Perfect desires, imperfect fulfillment.
Al-Risala, March 2015, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
خواہشیں (desires) اکتسابی نہیں ہیں، بلکہ وہ فطری ہیں۔ آدمی ان خواہشوں کو پیدائشی طور پر لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ ہر خواہش کے پیچھے ایک احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس استثنائی طور پر صرف انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ محظوظ ہونے کا احساس (sense of enjoyment) ہر انسان کو پیدائشی طور پر ملتا ہے۔
انسان کی شخصیت میں یہ ایک تضاد کا معاملہ ہے۔ یعنی انسان کے اندر خواہشیں لامحدود ہیں، لیکن دنیا میں ان خواہشوں کی تکمیل کا انتظام نہایت محدود ہے۔ انسانی شخصیت کے اس تضاد کو سمجھنا انسان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرے۔ وہ وہی چاہے جو فطرت کے قانون کے مطابق اسے اس دنیا میں ملنے والا ہے۔ وہ اس چیز کے پیچھے نہ بھاگے جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو اس دنیا میں ملنے والا ہی نہیں۔ انسان کے بارے میں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر شخص کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس حقیقت کو دریافت کئے بغیر زندگی کے میدان میں داخل ہو جائے، وہ صرف وقت اور اپنی توانائی کو ضائع کرے گا۔ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے گا۔ یہی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ زندگی کی جدوجہد کا آغاز ہے۔ اس سوال کا صحیح جواب وہی شخص پاسکتا ہے، جو متعصبانہ فکر (biased thinking) سے آزاد ہو کر اس پر غور وہ اپنی خواہش کو الگ رکھتے ہوئے، اس کو جاننے کی کوشش کرے۔ اس معاملے میں غلطی کرنا، پوری زندگی کو غلط کر دینے کے ہم معنی ہے۔