’’ زمانے نے میری صلاحیتوں کی قدر نہ کی……‘‘
Al-Risala, March 2015, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا آزاد کے اس جملے کا مطلب یہ تھا کہ پیدائشی فطرت کے اعتبار سے، وہ اعلیٰ صلاحیت کے مالک تھے،لیکن دوسرے لوگوں نے اُن کو نہیں پہچانا، اس لیے ان کی صلاحیت پوری طرح استعمال مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ احساس صرف ایک آدمی کا احساس نہیں ہے۔ تاریخ میں بہت سے ایسے انسان ہیں جو اپنے احساس کے اعتبار سے غیر استعمال شدہ شخصیت کی حیثیت سے جئے اور اسی احساس کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گیے۔ ایسے افراد کو بظاہر دوسرے لوگوں سے شکایت تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد اپنے اس احساس کے لیے تمام تر خود ذمہ دار تھے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص۔ خالق نے موجودہ دنیا کو جس قانون کے تحت بنایا ہے، اس کے مطابق، کسی انسان کے لیے یہاں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے۔ ایک یہ کہ وہ کسی دوسرے کے بنائے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرینڈر کرے، یا وہ اپنے لیے ایک خود تعمیر کردہ دنیا (self-created world) کو تخلیق کرے اور اس کے اندر اپنی مرضی کے مطابق رہے۔ ان دو کے سوا کوئی اور انتخاب کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔
موجودہ دنیا مسابقت (competition) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا شخص آپ کی قدر و قیمت کو پہچانے، اور وہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کرے، جو بطور خود آپ اُس سے ایسا کبھی کسی انسان کے لیے نہیں ہوا۔ صلاحیتوں کو دینے والا اللہ رب العالمین ہے اور صلاحیتوں کا استعمال وہی شخص کرتا ہے جس کو صلاحیت دی گئی ہے۔ دوسرے آدمی سے زیادہ سے زیادہ جو امید کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آپ کے کیے ہوئے کام کا اعتراف کرے۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص آپ کے حصے کا کام نہیں کر سکتا۔ موجودہ دنیا کے لئے یہ مقولہ بالکل درست ہے — کرو یا مرو: Do or die