Al-Risala · April 2015

قرآنی انقلاب

Al-Risala, April 2015, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سادہ معنوں میں ایک مذہبی کتاب نہیں۔ قرآن کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ تاریخ میں ایک بڑا انقلاب لایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ انقلاب اچانک نہیں آ سکتا تھا۔ اس کی صورت صرف یہ تھی کہ تاریخ میں ایک طاقت وعمل (strong process) جاری کیا جائے۔ اس عمل کو اس طرح جاری رکھنا تھا کہ انسانی آزادی بھی باقی رہے، اور یہ عمل بھی تاریخ میں سفر کرتے ہوئے اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ اللہ کے منصوبے کے تحت یہ عمل ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں شروع ہوا، اور بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ موجودہ زمانے میں جس ظاہر کو عام طور پر مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی عمل کی تکمیل کا دوسرا نام ہے۔ اس لحاظ سے اس تہذیب کو زیادہ درست طور پر خدائی تہذیب (Divine Civilization) کہنا چاہئے۔

Printed page