نظام فطرت
Al-Risala, April 2015, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق انسان کو موجودہ زمین (planet earth) پر ابتلا (test) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ فرشتوں کی نگرانی میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر رہا ہے، اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کر رہا اسی ریکارڈ کے مطابق ہر فرد کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مگر انسانوں کی اکثریت نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اس غلط استعمال کی سب سے زیادہ نامطلوب صورت یہ تھی کہ کچھ انسانوں نے پوری دنیا میں اجارہ داری (monopoly) کا نظام قائم کر دیا۔ سیاسی اجارہ داری، اقتصادی اجارہ داری، مذہبی اجارہ داری، خاندانی اجارہ داری، وغیرہ۔ اجارہ داری کے اس نظام کی بنا پر انسانی آزادی کا وہ ماحول باقی نہ رہا جو مطلوب امتحان کے لئے ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اجارہ داری کے اس نظام کو ختم کر کے دنیا میں فطری آزادی کا ماحول واپس لایا جائے۔ قرآن کے ذریعہ یہی انقلاب مطلوب تھا، جس
کو ایک لفظ میں ختم اجارہ داری (de-monopolization) کہا جا سکتا ہے۔