نور الہی کا اتمام
Al-Risala, April 2015, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں مستقبل کے ایک واقعہ کا ذکر ہے، اس کو اتمام نور (61:8) کہا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزول یا اسلام کے ظہور سے جو کچھ مطلوب تھا، وہ فوراً حاصل ہونے والا نہ اس کے لیے ضروری تھا کہ تاریخ میں ایک لمبا عمل (long process) جاری ہو، اور پھر اس کی تکمیل پر تمام مطلوب چیزیں کلی طور پر حاصل ہو جائیں۔
یہ مطلوب نشانہ کب پورا ہوا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں جو انقلاب آیا، وہ اس معاملے کا آغاز تھا۔ اس انقلاب نے تاریخ میں ایک عمل (process) جاری کیا۔ ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہ طاقت ور عمل مختلف صورتوں میں تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ آخری طور پر بیسویں صدی عیسوی میں یہ تمام چیزیں کامل طور پر حاصل اس عمل میں مختلف اقوام عالم نے حصہ لیا۔ کسی نے شعوری طور پر اور کسی نے غیر شعوری طور پر، کسی نے دینی جذبہ کے تحت اور کسی نے سیکولر جذبہ کے تحت، کوئی براہ راست طور پر اس تاریخی عمل کا حصہ بنا اور کوئی بالواسطہ طور پر اس تاریخی عمل کا حصہ بنا۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں نور الہی سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اس سے مراد ہدایت انسان کی وہ تحریک ہے، جو اللہ کی خصوصی نصرت سے شروع ہوئی، اور انسانی آزادی، اور اسباب وعلل کو باقی رکھتے ہوئے مسلسل طور پر جاری رہی۔ اس عمل کی تکمیل اس طرح نہیں ہوسکتی تھی، جس طرح روشن سورج نکلتا ہے۔ سورج کا سفر خلا (space) میں جاری ہوتا ہے، جب کہ دعوت توحید کا مشن انسانوں کے درمیان جاری ہوتا ہے۔ اس فرق کی رعایت کے ساتھ ہدایت الہی کا مشن تاریخ میں جاری ہوا اور مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اپنی تکمیل تک پہنچا۔ بیسویں صدی اس عمل کی تکمیل کی اب دعوت کے تمام مطلوب مواقع کھل چکے ہیں۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ ان مواقع کو پہچانیں، اور بھر پور طور پر ان کو استعمال کریں۔