امن کا دور
Al-Risala, April 2015, pp. 8–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں : عن خباب بن الأرت شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة، فقلنا: ألا تستنصر لنا، ألا تدعو لنا؟ فقال: قد كان من قبلكم، يؤخذ الرجل فيحفر له في الأرض، فيجعل فيها، فيجاء بالمنشار فيوضع على رأسه فيجعل على نصفين، ويمشط بأمشاط الحديد ما دون لحمه وعظمه، فما يصده ذلك عن دينه ـ والله لیُتَمنَّ هذا الأمر، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضر موت، لا يخاف إلا الله والذئب على غنمه، ولكنكم تستعجلون (صحیح البخاری: 6943)
یعنی حضرت خباب کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ۔ وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی ایک چادر کا تکیہ لگائے ہوئے لیٹے تھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے ، کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ تھے ان کا حال یہ تھا کہ ایک شخص کو پکڑا جاتا، پھر اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرالا یا جاتا، پھر اس کو آدمی کے سر پر رکھا جاتا، پھر آرا چلا کر اس آدمی کے جسم کے دو ٹکڑے کر دئے جاتے۔ لوہے کی کنگھی سے، اس میں کنگھی کی جاتی یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت اور ہڈی تک پہنچ جاتا ، مگر یہ چیز آدمی کو اس کے دین سے نہ روکتی۔ کی، اللہ اس امر کو ضرور پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک مسافر صنعاء سے حضر موت تک جائے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہ ہوگا۔ اور اس کو اپنی بکریوں پر صرف بھیڑیے کا ڈر ہوگا، مگر تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔
اس حدیث میں دراصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ایک اہم پہلو کو بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ اس دنیا میں ایسا انقلاب لایا جائے، جس کے نتیجے میں دنیا میں
مذہبی امن قائم ہو جائے۔ ہزاروں سال سے جاری شدہ مذہبی تشدد (religious persecution) کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ تاہم آپ کے مشن کا یہ نتیجہ ایک تدریجی عمل کے ذریعہ مستقبل میں ظاہر ہونے والا تھا، نہ کہ فوری طور پر خود زمانہ رسول میں۔
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ عمل شروع پہلے قبائلی سطح پر مذہبی تشدد کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد ایک تدریجی عمل کے ذریعہ حکومتی سطح پر اس کا عملاً خاتمہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں اقوام متحدہ (UNO) قائم ہوئی ۔ کے تحت دنیا کی تمام قوموں کے نمائندوں نے بین اقوامی طور پر یہ عہد کیا کہ ان کے ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف تشدد نہیں کیا جائے گا۔
تشدد (violence) ایک ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، تشدد کرنے والا اور تشدد کا شکار ہونے والا۔ قدیم زمانے میں مذہب، حکومت کا ایک شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ سمجھا جاتا تھا کہ جائز مذہب وہی ہے جو سرکاری مذہب (official religion) ہو۔ سرکاری مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرے تو یہ ایک ایسا جرم تھا، جو حکومت سے بغاوت کے ہم یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں اس شخص کو تشدد کا شکار ہونا پڑتا تھا، جو حکومت کے اختیار کردہ مذہب کے سوا کسی اور مذہب کو اپنا مذہب بنائے۔
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں خاندانی حکومتوں کا نظام قائم تھا۔ یہ لوگ اپنی حکومت کے استحکام کے لیے، کسی اختلاف کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہ صورت حال اللہ کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھی۔
اللہ کی منشا یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہو، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کس نے صحیح طریقہ اختیار کیا اور کس نے غلط طریقہ اختیار کیا۔ اس لیے رسول اور رسول کے ماننے والوں کو یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ مذہبی تشدد پر مبنی اس نظام کو ختم کر دو (8:39)، تاکہ انسانوں کے درمیان وہ حالت فطری قائم ہو جائے جو خالق کو مطلوب ہے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ صدارتی نظام جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ مذکورہ حدیث میں اسی منصوبہ خداوندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے فیصلے کے مطابق ، حتمی طور پر یہ ہونے والا ہے کہ دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) آئے ، اور مذہبی تشدد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے۔ مذہبی آزادی کا یہ دور بیسویں صدی میں پوری طرح آگیا۔ اب مذہب کے معاملے میں کسی کے اوپر کوئی جبر نہیں۔ اب تشدد کا معاملہ صرف اس شخص یا گروہ کے ساتھ پیش آئے گا ، جو اپنی طرف سے غیر ضروری تشدد کر کے فریق ثانی کو جوابی تشدد کا موقع دے۔ تشدد کرنے والے کو بہرحال جوابی تشدد کا شکار ہونا پڑے گا ، خواہ اس نے اپنا تشدد مذہب کے نام پر کیا ہو یا مذہب کے سوا کسی اور نام پر۔