اجتماعی نظام، اصلاح افراد
Al-Risala, April 2015, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں اجتماعی نظام کا اصول الگ ہے، اور افراد کی اصلاح کا اصول الگ۔ خالق کے قائم کردہ فطری نظام کے مطابق ہے۔ اگر ان دونوں پہلوؤں کو ایک کر دیا جائے تو دونوں میں سے کسی کی اصلاح کا حق ادا نہیں ہوگا۔ جب کہ دونوں پہلوؤں کا نظم الگ کرنے کی صورت میں دونوں کا حق ادا کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ فرد کی اصلاح کا معاملہ آخرت سے جڑا ہوا ہے۔ آخرت میں ہر فرد سے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر الگ معاملہ کیا جائے گا۔ اس لیے اسلامی نقشے میں فرد کے معاملے کو اس کے ذاتی فیصلے پر منحصر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (29: اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد (individual) کے معاملے میں اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ پرامن انداز میں حق کی وضاحت کی جاتی رہے۔ دلائل کے ذریعہ حق کو لوگوں کے لیے قابل قبول اور قابل فہم (understandable) بنایا جاتا رہے۔ یہ فرد کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا وہ اس کا انکار کر دیتا ہے۔
جہاں تک مجتمع (society) کی بات ہے، اس کا اصول قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:39) یعنی اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے۔ کی اس آیت کا ترجمہ اگر انگریزی زبان میں کیا جائے تو وہ یہ ہوگا :
And whose affairs are decided by mutual consultation. اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے مطابق سماج کا نظام شوریٰ پر مبنی ہونا چاہئے، اسی طریقہ پر جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ یعنی اجتماعی معاملات میں سماج کے افراد سے مشورہ کیا جائے، اور پھر یا تو اتفاق رائے کی بنیاد پر یا کثرت رائے کی بنیاد پر اجتماعی معاملات کا فیصلہ کیا جائے۔ یہی جمہوریت کی روح ہے، اور یہی شوریٰ کا مقصود بھی۔
اصل یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اس دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ آزادی اتنی زیادہ حتمی ہے کہ اس کو منسوخ (abolish) کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ سماجی نظم کے معاملے میں صرف عملیت (pragmatism) کا طریقہ چل سکتا ہے، معیار (idealism) کا طریقہ سماج کے معاملے میں قابلِ عمل نہیں۔ اگر سماج کے معاملے میں آئیڈیلزم کو چلایا جائے تو نتیجہ کے اعتبار سے اس کا انجام بد نظمی (anarchy) ہوگا، نہ کہ آئیڈیلزم۔
اس معاملے کا قابلِ عمل حل یہ ہے کہ سماج کے معاملے میں جمہوریت کا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی مقرر مدت پر آزادانہ اور منصفانہ الیکشن (free and fair election) ہو، اور پھر منتخب افراد کے ذریعہ محدود مدت کے لیے ایک سماجی نظم قائم کیا جائے۔ یہ نظم سماج یا عوام کی رضامندی کی بنیاد پر مقرر مدت (term) تک چلایا جائے گا، نہ کہ کسی معیاری اصول کی بنیاد پر۔ مقرر مدت پوری ہونے پر دوبارہ الیکشن ہو، اور منتخب افراد دوبارہ محدود مدت کے لئے نظم کو سنبھالے۔ اجتماعی نظم کے معاملے میں یہی صورتِ قابلِ عمل ہے، اور یہی صورت خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے۔
افراد کے معاملے میں جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا. فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا. قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا. وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّهَا. (93:7-10) اور نفسِ انسانی اور جیسا کہ اس کو ٹھیک کیا، پس اس کو سمجھ دی اس کی بدی اور نیکی کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا اور نا مراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، فرد کی اصلاح، ہر شخص کا اپنا ذاتی معاملہ ہر شخص کو خود یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی فطرت کو زندہ کرے، اور خالق کے مطلوب نقشے کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرے۔ اسی شخصیت کو قرآن میں مزکّی شخصیت (purified personality) کہا گیا یہ مزکّی شخص ایک خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) ہوتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے، جس پر دنیا کی زندگی میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اور یہی وہ انسان ہے جس کو آخرت میں جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا۔