Al-Risala · April 2015

فہمِ قرآن

Al-Risala, April 2015, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

فہم قرآن کی کلید (key) کیا ہے، اس کے بارے میں اہلِ علم نے کئی باتیں لکھی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن فہمی کے لئے پندرہ علوم کا جاننا ضروری ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن فہمی کے لئے سب سے زیادہ اہمیت شانِ نزول کی روایات کی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ سب سے اچھا طریقہ تفسیر، تفسیر القرآن بالقرآن ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ قرآن فہمی کے لئے سب سے زیادہ اہمیت نظم (order) کی ہے، نظم بین الآیات، نظم بین السور۔ ان کے نزدیک نظم قرآن کو جاننا ہی قرآن فہمی کی اصل کلید (master key) ہے۔

مگر ان میں سے ہر بات صرف جزئی طور پر درست ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ اصل یہ ہے کہ قرآن فہمی کی سطحیں (levels) ہیں۔ ایک ہے قرآن، اور دوسری چیز ہے تطبیقی قرآن (applied Quran)۔ قرآن فہمی کی پہلی سطح یہ ہے کہ بوقتِ نزول، قرآن کے معاصرین کے لئے اس کا مفہوم کیا تھا۔ فہمی کی دوسری سطح یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے بدلے ہوئے حالات میں قرآن کی تطبیقی معنویت (applied meaning) کیا ہے۔

قرآن فہمی کی مذکورہ تمام شرطیں صرف سطح اول کے اعتبار سے قرآن کے فہم (understanding) میں مددگار ہوسکتی ہیں۔ مگر جہاں تک قرآن فہمی کی دوسری سطح کا معاملہ ہے، یعنی عصرِ حاضر کی نسبت سے قرآن کی تطبیقی معنویت، اس اعتبار سے تمام شرطیں بالکل نا کافی ہیں۔ سطح اول کے اعتبار سے قرآن کو جاننے کا فائدہ صرف یہ ہے کہ آدمی کے لئے قرآن تاریخی اعتبار سے ایک قابل فہم کتاب بن جائے۔ مگر جہاں تک عصرِ حاضر کی بات ہے، اس اعتبار سے آج کے انسان کو قرآن میں کوئی رہنمائی نہیں ملے گی۔ وہ عقیدہ کی حد تک قرآن کو مانے گا، لیکن زمانے کی نسبت سے قرآن کو اپنے لئے ایک زندہ رہنما (living guide) بنانا اس کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ قرآن کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ ابدی طور پر ہر انسان کے لئے ایک رہنما کتاب ہے۔

اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی سورہ یوسف ہے۔ اس قصہ کو اللہ تعالیٰ نے احسن القصص (best story) کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سورہ میں کوئی غیر معمولی بات بتائی گئی ہے۔ عربی زبان اور دوسری زبانوں میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں، ان میں سورہ یوسف کے بارے میں کافی بحث موجود ہے۔ لیکن یوسف کا قصہ احسن القصص کیوں ہے، اس پر کسی تفسیر میں کوئی واضح رہنمائی نہیں ملتی۔ عقل کا تقاضا ہے کہ جب یوسف کا قصہ احسن القصص ہے تو اس کا احسن ہونا صرف گزرے ہوئے ماضی کے اعتبار سے نہیں ہو سکتا، ضروری ہے کہ زمانہ حاضر کے اعتبار سے اس میں کوئی احسن رہنمائی موجود ہو۔

اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ میں احسن القصص کا لفظ حقیقتاً حسن منہج (best method) کے معنی میں ہے، یعنی طریقہ کار کا بہترین نمونہ ۔ حضرت یوسف کا قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں آیا ہے۔ دونوں کے مطالعے سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں بادشاہت کا نظام تھا۔ اس زمانے میں زراعت کسی حکومت کا سب سے بڑا شعبہ اس وقت کا مصری بادشاہ اس پر راضی ہو گیا کہ پولیٹیکل اتھارٹی کے اعتبار سے وہ تخت پر رہے، اور حکومت کا نظام حضرت یوسف کے سپرد کر دے۔ قرآن میں یہ بات اس طرح کہی گئی ہے کہ مصر میں دین ملک (law of the land) بدستور بادشاہ کا ہو، اور خزائن ارض (ملک مصر کا زرعی نظام) حضرت یوسف کے ہاتھ میں رہے۔ اس معاملے کو بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ ترہوں گا۔

Only in regard to the throne will I be greater than you.

حضرت یوسف کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانے کا مصری بادشاہ اس پر راضی ہو گیا کہ قانونی اعتبار سے پولیٹیکل اتھارٹی (political authority) کا درجہ اس کو حاصل ہو، اور نان پولیٹیکل (non-political) دائرے میں زمین کا انتظام حضرت یوسف کے

ہاتھ میں رہے۔ یہ گویا پولیٹیکل سیٹلمنٹ (political settlement) کا ایک معاملہ تھا، جس میں تخت پر تو بادشاہ بیٹھا ہوا تھا، لیکن جہاں تک ملکی انتظام کا معاملہ ہے، وہ عملاً حضرت یوسف کے ہاتھ میں دے دیا گیا (12:56)۔

حضرت یوسف کو مصر میں یہ مواقع ایک بادشاہ کے ذاتی مزاج کی بنا پر شخصی طور پر حاصل ہوئے اب تطبیقی تفسیر کے اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے میں یہ مواقع خود زمانی تبدیلی کی بنا پر تمام اہل ایمان کو عمومی طور پر حاصل ہو گئے ہیں۔ جدید جمہوری تصور کے مطابق کوئی حاكم (ruler) صرف چند سال کے لئے ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حکومت کی حیثیت اصولاً انتظام (administration) کے ادارے کی ہوتی ہے۔ انتظامی دائرے کے باہر کے تمام شعبے بشمول مذہبی تبلیغ، آزاد شعبے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر فرد کو حق ہے کہ وہ تمام غیر حکومتی شعبوں میں جس طرح چاہے عمل کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے پرامن طریقہ (peaceful method) اختیار کرے، وہ کسی کے خلاف ٹکراؤ کا معاملہ نہ کرے، نہ عام شہری کے خلاف اور نہ حکومت کے خلاف۔

گویا کہ زمانی تبدیلی کے نتیجے میں اب احسن القصص کی حیثیت ایک عالمی اصول کی ہوگئی یہ اس سورہ کی تطبیقی تفسیر ہے۔ اس تفسیر کی روشنی میں سورہ یوسف آج کے انسان کے لئے ایک رہنما سورہ بن جاتی ہے۔ یہی طریقہ پورے قرآن کے لئے مطلوب ہے۔ اس طرح قرآن آج کے انسان کے لئے ایک رہنما کتاب بن جاتا ہے جب کہ مذکورہ تفسیری اصولوں کی روشنی میں قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن ماضی کی ایک گزری ہوئی کہانی کی مانند نظر آئے گا۔ بھوپال میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم فرمائیں: 48, Aamwali Masjid, Jahangirabad, Bhopal (M.P.)

Printed page