Mob. 09755300295,07556542231
Al-Risala, April 2015, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اہل ایمان کے دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جن کے لیے مُسْتَضْعَفِیْن (4:97) کا لفظ آیا ہے، یعنی کمزور (the weak)- ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ وہ ہجرت کر کے دوسرے پر امن مقامات پر چلے جائیں۔ اہل ایمان کا دوسرا گروہ وہ ہے، جو صاحبِ قوت ایسے لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم ائمہ کفر (9:12) سے جنگ کرو، اور ان کے اوپر غلبہ حاصل کرو۔ امام ابن تیمیہ (وفات: 728ھ) نے ان آیتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو مسلمان کمزور حالت میں ہوں، وہ صبر اور صفح کے اصول پر عمل کریں۔ اور دوسرا مسلم گروہ، جو صاحب قوت ہو اس کو چاہئے کہ وہ قتال کر کے مخالفین کو زیر کرے (الصارم المسلول: 414-2/412)۔ یہی تقریباً تمام مسلم علماء کا مسلک ہے۔ عام طور پر مسلمان اسی طرزِ فکر کو اسلامی طرزِ فکر سمجھتے ہیں۔ مگر یہ طرزِ فکر اسلامی بصیرت کے مطابق نہیں۔ یہ طرزِ فکر آج ایک غیر متعلق طرزِ فکر بن چکا ہے۔
ضعیف اور قوی کے الفاظ مطلق (absolute) الفاظ نہیں۔ ان کا تعین ہمیشہ حالات کی نسبت سے ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں جو حالات تھے، ان کے تحت ضعیف اور قوی کی یہ تقسیم بنی تھی۔ میں یہ تقسیم ختم ہو چکی ہے۔ اب نہ کوئی ضعیف ہے اور نہ کوئی قوی۔ اب ہر آدمی خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، یکساں طور پر آزاد انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ حقوقِ انسان (human rights) کا زمانہ ہے، اب نئے حالات نے قدیم طرز کی تفریق ختم کردی ہے- قدیم زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا۔ قدیم سیاسی نظام کے تحت انسانوں کی تقسیم حاکم (ruler) اور محکوم (ruled) کی صورت میں کی جاتی تھی۔ اب نئے حالات میں جمہوری تصور کے تحت ہر انسان کو اپنے عمل کی مکمل آزادی حاصل ہے، بشرطیکہ وہ پرامن رہے، اور کسی دوسرے فرد یا گروہ پر تشدد نہ کرے۔ قدیم زمانہ اگر محکومی کا زمانہ تھا، تو موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ میں حاکم کے حکم کی خلاف ورزی جرم تھی، موجودہ زمانے میں امن کے اصول کی خلاف ورزی اور تشدد
کی حیثیت جرم کی ہے۔
قرآن میں قتال کا جو حکم دیا گیا تھا، وہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مقصد کسی وقتی نظام کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اس کا مقصد اس عمومی دور کا خاتمہ تھا، جس کے تحت لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل نہ تھی۔ لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل ہو جائے تو قتال کا حکم بھی ایک غیر متعلق (irrelevant) حکم بن
یہی وہ بات ہے، جو قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے: وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد قدیم زمانے کا وہ دور حکمرانی ہے، جس کو مطلق العنان حکومت (despotism) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام خدا کی اسکیم کے خلاف تھا۔ یہ نظام چونکہ فوجی طاقت کے زور پر قائم تھا، اس لئے اس کو فوجی طاقت ہی سے ختم کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کو بذریعہ قتال ختم کردو۔ آیت میں ويكون الدين كله لله کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں حالت فطری قائم ہو جائے، مصنوعی رکاوٹ کا خاتمہ ہو جائے، اور انسان کھلے ماحول میں آزادی کے ساتھ اپنا عمل لمبے تاریخی عمل کے بعد، یہ مطلوب نظام اب ساری دنیا میں عملاً قائم ہو چکا ہے۔ اگر آدمی تشدد (violence) کا ارتکاب نہ کرے تو وہ کہیں بھی ضعیف نہیں، اس کے لئے کہیں یہ دور جدید کا تقاضا ہے۔ نیا دور آزادی کا دور ہے، اور تشدد آزادی کا نقیض ایک شخص یا گروہ کا تشدد، دوسرے شخص یا گروہ کی آزادی کو منسوخ (abolish) کرنے کے ہم معنی ہے۔ جس طرح توحید کے کلچر میں شرک امر ممنوع بن جاتا ہے، اسی طرح آزادی کے کلچر میں تشدد کی حیثیت ایک امر ممنوع کی ہے۔ تشدد کے سوا کوئی اور چیز نہیں جو موجودہ دور آزادی میں انسان کو اس کی آزادی سے محروم کرنے والی ہو۔