Al-Risala · April 2015

قرآن کا ایک پہلو

Al-Risala, April 2015, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی آیتوں میں کچھ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق حال سے ہے، اور کچھ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق مستقبل سے ہے۔ مثلاً قرآن میں یہ حکم ہے کہ: فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ (158: یعنی پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ یہ آیت جس وقت اتری، اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی۔ اسی طرح مثلاً قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (20:14) یعنی اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ قرآن کی یہ آیت جس وقت اتری اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی۔ اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا (152: یعنی اور جب بولو تو انصاف کی بات بولو۔ یہ آیت بھی جس وقت اتری، اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی۔

قرآن میں اس طرح کی کثیر آیتیں ہیں، جو باعتبار حال (present) مطلوب تھیں۔ وقت یہ آیتیں اتریں، اسی وقت اہل ایمان کے لیے ضروری ہو گیا کہ ان آیتوں میں جو احکام دئے گئے ہیں ان کی وہ بلا تاخیر تعمیل کریں۔ جو آدمی ان آیتوں کو سننے کے بعد، اُن کی تعمیل نہ کرے، اس کے لئے اندیشہ تھا کہ وہ اللہ کے نزدیک خارج از اسلام قرار پائے۔

ان کے علاوہ قرآن میں کچھ اور آیتیں ہیں جن کا تعلق مستقبل (future) سے تھا۔ نزول ان کی حیثیت پیشین گوئی کی تھی، اور ان آیتوں کا تحقق نزول کے بعد آنے والے دور میں ہونے والا تھا۔ اس طرح کی آیتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن میں صراحتاً مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، اور دوسری آیتیں وہ ہیں، جن میں بظاہر مستقبل کا صیغہ نہیں ہے، لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ظہور صرف مستقبل میں ہونے والا تھا۔

Printed page