Al-Risala · April 2015

مستقبل کی آیتیں

Al-Risala, April 2015, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی قسم کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ

حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی اس میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے، جو قرآن کے نزول کے بعد آنے والے زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا۔

اسی طرح قرآن میں حضرت موسیٰ کے زمانے کے فرعون مصر کے تذکرے کے تحت یہ آیت آئی ہے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ ءَايَاتِنَا لَغَافِلُونَ (10:92) یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ اگر چہ نزول قرآن سے پہلے مصر میں پیش آ چکا تھا، لیکن عملاً وہ لوگوں کے لیے ایک غیر معلوم واقعہ تھا۔ کیونکہ معاصر تاریخ میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ اس لحاظ سے آیت کے ایک پر را دھا تھا۔ یرمہ ناس زمانوں میں اس کا اس ریڈیار کے اس مصداق کی حیثیت ایک پیشین گوئی تھی، جو بعد کو ظاہر ہونے والی تھی۔ جڑے آتا یٹنگس ٹائیک (Greyhound Books) کے کٹ ٹا ئل گیں۔

چنئی اور حیدرآباد میں گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) کے اسٹور قائم ہوگئے ہیں، ان میں گڈ ورڈ بکس کی تمام مطبوعات، ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر دستیاب ہیں:

Mob. 9448651644, Email: hyd.goodword@gmail.com

Printed page