تبدیلی کے دو دور
Al-Risala, April 2015, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک منصوبہ الہیٰ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّہِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ. (9:111) یعنی بلا شبہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جان اور ان کے مال کو خرید لیا ہے جنت کے بدلے۔ وہ اللہ کی راہ میں پھر وہ قتل کرتے اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے، تو رات میں اور انجیل میں اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے۔ پس تم خوش ہو جاؤ اس معاملہ پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے۔ اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی۔
قرآن کی اس آیت میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کو الفوز العظیم (supreme achievement) کہا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے تو رات اور انجیل میں بھی آ چکا ہے۔ فيقاتلون ويقتلون کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ ایک بہت بڑا منصوبہ الہیٰ (divine plan) ہے۔ یہ ایک ایسی مہم تھی جس کے لئے ضروری تھا کہ اہل ایمان اس کے لئے آخری ممکن قربانی دے دیں۔ اس کے بعد ہی ایسا ہو سکتا تھا کہ یہ خدائی منصوبہ تکمیل تک پہنچے اور اس منصوبہ میں اپنا حصہ ادا کرنے والوں کو جنت کے اعلیٰ درجات میں جگہ ملے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبہ الہیٰ کے دو مرحلے (phases) تھے۔ ایک مرحلہ وہ تھا، جس کی تکمیل اصحاب رسول کے زمانے میں، ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی، اور دوسرا مرحلہ وہ ہے، جس کے لیے یہ مقدر تھا کہ وہ بعد کے زمانے میں انجام پائے۔ آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ اس سے مراد ایک بہت بڑا منصوبہ ہونا چاہئے۔
قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں تاریخ کے ایک عظیم انقلاب کا بیان ہے، یعنی مخالفِ اسلام دور کو ختم کرنا اور موافقِ اسلام دور کو لانا۔ پیغمبر اسلام سے پہلے تاریخ کا جو دور گزرا ہے، اس میں بہت سے پیغمبر آئے، لیکن ہر پیغمبر کو غیر معمولی مخالفتوں کا سامنا کرنا اس لیے ان پیغمبروں کا مشن صرف دعوت کے مرحلے تک رہا، وہ انقلاب کے مرحلے تک اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم دور ایک مخالفِ اسلام دور تھا۔ یہ دور سیاسی طاقت کے زور پر قائم تھا، ضروری تھا کہ اس دور کو ختم کیا جائے۔ مگر اس دور کو ختم کرنا جان و مال کی عظیم قربانی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا، اصحابِ رسول نے یہی کارنامہ انجام دیا۔
جب اصحابِ رسول کی قربانیوں سے مخالفِ اسلام دور ختم ہوا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوا کہ انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہو گیا۔ یہ ایک نہایت گہرا عمل تھا۔ اس عمل کی انجام دہی میں اہل ایمان کے علاوہ غیر اہل ایمان (سیکولر اقوام) بھی شریک ہوئے۔ اس عمل کی تکمیل مغرب میں ہوئی۔ پہلے مرحلے میں مخالفِ اسلام دور کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ دوسرے دور میں تمام موافقِ اسلام مواقع کھل گئے۔
پہلے دور کو قرآن میں ختم فتنه (8:39) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ میں پیش آنے والے واقعے کو مواقع کا انفجار (opportunity explosion) کہا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے کا کام اصحابِ رسول نے مکمل طور پر انجام دیا، اور اس بنا پر وہ جنت کے مستحق قرار پائے۔ دوسرے دور میں کرنے کا کام یہ ہے کہ پیش آمدہ مواقع کو دریافت کر کے ان کو دعوتِ حق کے لیے بھر پور طور پر استعمال کیا جائے۔
اصحابِ رسول نے اس معاملے میں منصوبۂ الہی کے پہلے مرحلہ کو ظہور میں لانے کے لیے اپنا حق ادا کیا، اور فوزِ عظیم کے مستحق قرار پائے۔ اب جو لوگ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور استعمال کر کے دوسرے مرحلے کا کام انجام دیں گے، یعنی پیغامِ حق کی عالمی تبلیغ، وہ دوبارہ فوز عظیم کے مستحق قرار پائیں گے، جس طرح دور اول کے لوگ فوز عظیم کے مستحق قرار پائے تھے۔