Al-Risala · April 2015

اسلام کے دوپہلو

Al-Risala, April 2015, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے علمی مطالعے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی آئیڈیالوجی کو اور اس کی تاریخ کو الگ کر کے دیکھا جائے۔ کیوں کہ اسلام کی آئیڈیالوجی ابدی ہے، لیکن اس کی تاریخ میں فطری طور پر ایسے اجزا شامل ہیں جو وقتی حالات کی نسبت سے اسلام کی تاریخ کا جز بنے تھے۔ حالات بدلنے کے بعد ان اجزاء کی حیثیت صرف گزرے ہوئے ماضی کی وقتی تاریخ کی ہے، آئیڈیالوجی کی طرح اس کی حیثیت ابدی نہیں۔

اسلام کی آئیڈیالوجی، توحیدالہ (oneness of God) کی ابدی حقیقت پر مبنی ہے۔ ساتویں صدی کے نصف اول میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اس وقت دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ مزید یہ کہ اس زمانے میں ساری دنیا میں بادشاہت (kingship) کا نظام قائم تھا۔ اس زمانے کے بادشاہوں نے شرک کو سرکاری مذہب (official religion) کی حیثیت دے دی تھی۔ اس بنا پر اس زمانے کا نظام عملاً مشرکانہ بادشاہت کا نظام بن گیا تھا۔ یہ نظام مذہب توحید کے لئے ایک جارحانہ مسئلہ (violent problem) کی حیثیت اختیار کئے ہوئے تھا۔

اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام تر ایک پر امن مشن ہے، لیکن مذکورہ حالات کی بنا پر فطری طور پر ایسا ہوا کہ فریق ثانی کی طرف سے متشددانہ مخالفت شروع ہوگئی۔ پہلے قبائلی سردار (Tribal Chief) کی طرف سے، اور اس کے بعد اس وقت کے قائم شدہ ایمپائر (ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کی طرف سے)۔ اس جنگ میں مشرکانہ اقتدار کی حیثیت جارح کی تھی، اور اسلام کی حیثیت مدافع کی تھی۔ یہ جنگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شروع ہوئی اور خلیفہ ثانی عمر فاروق (وفات: 23ھ / 644ء) کے زمانے میں اصولاً ختم ہوگئی۔ مسلح مزاحمت (armed struggle) کی یہ مدت تقریباً 25 سال ہے۔ اللہ کی خصوصی نصرت کے تحت اس مختصر مدت میں مشرکانہ اقتدار کا زور اب یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کا اصل مشن، پر امن دعوت توحید مزاحمت کے خطرے کے

بغیر جاری کیا جائے اور قیامت تک اس کو جاری رکھا جائے۔

وقت کے مشرکانہ اقتدار سے اسلام کی مسلح مزاحمت (armed struggle) کا تعلق وقتی حالات سے تھا، وہ اسلام کی آئیڈیالوجی کا ابدی حصہ نہ تھا۔ مگر بعد کے زمانے میں حضرت عثمان کی شہادت (35ھ/ 656ء) کے وقت امت میں ایسا بحران (crisis) پیدا ہوا کہ لوگ آئیڈیالوجی اور تاریخ کے اس فرق کو بھول گئے، اور بحرانی حالات کے تحت لوگوں کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوگئی، جب کہ اللہ کے منصوبے کے مطابق اب جنگ کا زمانہ ختم ہو چکا تھا، اور وہ وقت آگیا تھا کہ معتدل حالات میں توحید کی پر امن دعوت کو شروع کیا جائے، اور اس کو قیامت تک جاری رکھا جائے۔ بعد کے زمانے میں وہ لڑائی پیش آئی، جس کو تاریخ میں فتنہ ابن الزبیر کہا جاتا ہے۔ صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73ھ) مدینہ میں موجود تھے، مگر وہ لڑائی میں شریک نہیں تھے، کچھ لوگ حضرت عبداللہ ابن عمر سے ملے۔ انھوں نے قتالِ فتنہ کی آیت (8:39) کا حوالہ دے کر کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرو، پھر آپ کیوں ہماری جنگ میں شریک نہیں ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عمر نے جواب دیا: قاتلنا حتی لم تكن فتنة، وكان الدين لله، وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير الله (صحيح البخاري: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا، اور دین اللہ کے لئے ہو گیا، اور تم چاہتے ہو کہ تم لڑو یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ آجائے، اور دین غیر خدا کے لئے ہو جائے۔

حضرت عبداللہ ابن عمر کے اس قول پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ کے حکم کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ شروع ہوئی، وہ ایک وقتی مقصد کے لئے تھی۔ یہ مقصد حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں حاصل ہو گیا۔ اب اہلِ ایمان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی نئے عنوان کے حوالے سے دوبارہ جنگ شروع کر دیں۔ اب اُنھیں صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت اسلام کے پر امن دعوتی مشن میں لگا دیں۔ اگر کوئی شخص یا گروہ دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کرے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ پر امن تدبیر کے ذریعہ جنگ کو روک دیں، تا کہ پر امن دعوت کا کام بلا وقفہ جاری رہے۔

Printed page