Al-Risala · April 2015

جنتی کام

Al-Risala, April 2015, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا مستحق امیدوار (deserving candidate) بننے کی تین خاص شرطیں ہیں۔ دنیا میں جو شخص ان شرطوں کو پورا کرے گا، اس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔ وہ تین شرطیں یہ ہیں:

1- جنت میں داخلہ کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی خالق (Creator) کی گہری معرفت حاصل وہ تخلیق (creation) میں غور وفکر کر کے مسلسل طور پر اپنی معرفت کو بڑھاتا رہے، یہاں تک کہ اس کے اندر ایک ایسی ربانی شخصیت پیدا ہو جائے جو ہر لمحہ الحمد لله (praise belongs to God) کی اسپرٹ میں جینے لگے۔ جو لوگ دنیا میں اپنے اندر اس قسم کی شخصیت بنائیں، انھیں کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ دوبارہ جنت کے معیاری ماحول میں الحمد لله (39:75) کہنے کی توفیق پائیں۔ 2- جنت میں داخلے کا مستحق بننے کی دوسری شرط وہ ہے جو انسانوں کی نسبت سے مطلوب ہے۔ اس شرط کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (26:89) یعنی مگر وہ جو اللہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر آئے۔ قلبِ سلیم کا مطلب پاک دل (sound heart) ہے۔ قلب سلیم کا مطلب دوسرے الفاظ میں وہی ہے جس کو ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ تخلیقی اعتبار سے قلبِ سلیم کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہر عورت اور ہر مرد فطرت پر پیدا ہوتے ہیں، اور فطرت پر پیدا ہونے کا نام ہی قلبِ سلیم کے تحت پیدا ہونا ہے۔ مگر موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں کے تمام حالات امتحان کی مصلحت کے ساتھ بنے ہیں۔ اس لئے یہاں ہمیشہ ہر قسم کے منفی و مثبت دونوں قسم کے اسباب موجود رہتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ (conditioning) شروع ہو جاتی ہے۔ پیدا ہونے کے وقت آدمی مسٹر نیچر ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) بن جاتا ہے۔

اس بنا پر قلب سلیم والا آدمی وہ ہے جو بڑا ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو اس ابتدائی فطرت پر قائم کرے، جس پر پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا تھا۔ یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ وہ اپنی سوچ، اپنے مزاج اور اپنی عادات کے اعتبار سے اپنے اندر اس مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرے، جو جنت کے معاشرے کا ممبر بننے کے لئے ضروری ہے۔

جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنت میں ہر طرف امن کا ماحول ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جنت کو دار السلام (Home of Peace) کہا گیا ہے۔ جنت میں ہر طرف صدق گفتاری (54:55) کا ماحول ہوگا۔ جنت میں نہ کوئی لغو (nuisance) گفتگو کرنے والا ہوگا، اور نہ گناہ کی بات کرنے والا (56:25)۔ موجودہ دنیا ان صفات کی تربیت کا مقام ہے، جو افراد موجودہ دنیا میں اپنے اندر یہ صفات پیدا کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے معیاری معاشرے کے ممبر بنائے جائیں گے۔

جنت کے استحقاق کی تیسری شرط یہ ہے کہ آدمی کو اسی دنیا میں جنت کا تعارف (47:6) حاصل ہو جائے ۔ یہ حال اس انسان کا ہوتا ہے، جو موجودہ دنیا میں اپنے ذہن کو اتنا ترقی یافتہ بنائے کہ اس کو شعوری طور پر جنت کی دریافت ہو جائے، وہ فطرت کے مناظر (natural scenes) کے اندر جنت کی جھلک (glimpse) دیکھنے لگے، وہ درختوں کی ہریالی میں جنت کے حسن کو دریافت کرلے، وہ چڑیوں کے چہچہے میں جنت کا نغمہ سننے لگے، وہ دریا میں شفاف پانی کو بہتے ہوئے دیکھے تو وہ جنت کی نہروں کو یاد کرنے لگے۔

جنت میں داخلے کا فیصلہ ہر عورت اور ہر مرد کے ذاتی کردار کی بنیاد پر ہوگا۔ جس فرد نے دنیا کی زندگی میں اپنے اندر مذکورہ قسم کے اوصاف کو پیدا کیا ہوگا، وہی آخرت میں اس کا مستحق قرار پائے گا کہ اس کو جنت میں داخلہ ملے۔ جنت کسی آدمی کو اس کی ذاتی خصوصیت (merit) کی بنیاد پر ملے گی، کسی اور مفروضہ کی بنیاد پر کسی شخص کو ہرگز جنت ملنے والی نہیں۔

Printed page