قرآن اور مثل قرآن
Al-Risala, April 2015, pp. 45–46
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إني أوتيت الكتاب ومثله معه (أبو داؤد: 4604) یعنی سن لو کہ مجھے کتاب (قرآن) دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا مثل۔ ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إني أوتيت الكتاب وما يعدلہ (صحیح ابن حبان: 12) یعنی مجھے کتاب دی گئی اور وہ جو اس کے برابر ہے۔
اس حدیث میں مثل قرآن سے مراد قرآن کی تبیین ہے۔ یہ تبیین ، احادیث رسول کی صورت میں مدون ہو کر کتابوں میں موجود ہے۔ مثل قرآن سے مراد وحی غیر متلو ہے، جن کو عام طور پر حدیث کہا جاتا ہے۔ گویا قرآن ، قرآن ہے، اور حدیث مثل قرآن۔
مثل قرآن کے الفاظ پر مزید غور کیجئے تو کہا جاسکتا ہے کہ مثل قرآن سے مراد تطبیقی قرآن (applied Quran) ہے۔ قرآن کی صورت میں پیغمبر اسلام کو دین کی اصولی تعلیمات دے دی گئی، لیکن ہمیشہ اجتہاد کی ضرورت رہتی ہے۔ یعنی روز مرہ کے حالات میں قرآن کی تعلیمات کی موافق حالات تطبیق تلاش کرنا۔ یہ تطبیق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ وہ قیامت تک اہل علم کے درمیان جاری رہے گی۔ تاہم اہل علم کی تطبیق کی حیثیت زمانی ہوگی، نہ کہ اگر قرآن کے ساتھ مثل قرآن (تطبیق) موجود نہ ہو تو قرآن ہر دور کے لوگوں کے لئے رہنما کتاب نہیں بن سکتا۔
مثال کے طور پر قرآن میں ایک اجتماعی اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَمْرُهُمْ شورى بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے۔ قرآن کی اس آیت کی تبیین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں کی ہے: كما تکونون كذلك يؤمر عليكم (مشکاة المصابيح: 3717) یعنی اجتماعی زندگی کا امیر خود مجتمع کے مشورے سے طے ہوگا۔ موجودہ زمانے میں اس تطبیق کی مزید توسیع کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی نظم کا فیصلہ جمہوریت (democracy) کے اصول پر
بذریعہ انتخاب (election) کیا جائے گا۔
اسی طرح ایک اور مثال یہ ہے کہ قرآن میں تیاری کا حکم دیتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60) یعنی اور ان کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو اس آیت میں قوت سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إن القوة الرمي، ألاإن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي (صحیح مسلم : 1917) یعنی سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔ مذکورہ حدیث تطبیق کی ایک مثال ہے۔ اس میں اعدادقوت کی قرآنی تعلیم کو ساتویں صدی عیسوی کے حالات کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے ہیں، اب نئے حالات کے لحاظ سے اعداد قوت کا مطلب ہوگا، اعداد علم۔ یعنی علم اور سائنس کے اعتبار سے اپنے آپ کو قوی بنانا۔ آج کی قوت تیر اندازی نہیں ہے، بلکہ وہ علوم ہیں جن کو سائنسی علوم کہا جاتا ہے۔ قرآن کی یہ تطبیق بھی ایک سنت رسول ہے، جو علمائے اسلام کے لئے ہر دور میں قابل اتباع ہر زمانے میں قوت کا معیار اور موثر کام کرنے کے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ قدیم قبائلی کلچر (tribal culture) میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگ کے ذریعہ دبدبہ قائم ہوتا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں نئے وسائل کے تحت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پر امن طریقہ (peaceful method) کے ذریعہ دبدبہ قائم کیا جائے ۔ یہی معاملہ ادبی اسلوب (idiom) کا ہے۔ اس اعتبار سے بھی موجودہ زمانے میں نئے نئے اسلوب رائج ہوئے ہیں۔ تطبیق کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو آج کے اسلوب میں بیان کیا جائے ۔ مثلاً قرآن میں نقل و حرکت کے ذریعہ دعوت کو سیاحت کہا گیا ہے۔ کے اسلوب میں اس کو دعوہ ان ایکشن (dawah in action) کہا جاسکتا ہے۔ قرآن اپنے مشن کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہے گا، لیکن اپنی تطبیق (application) کے اعتبار سے اس میں اضافے ہوتے رہیں گے ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لا تنقضی عجائبہ (الترمذی: 2906) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔