قرآن ،سنت، اجتہاد
Al-Risala, May 2015, pp. 3–6
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ آخر کی ایک حدیث ہے۔ آپ نے اپنے معاصر اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اپنی امت کو ایک آخری سبق دیا۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ترکت فیکم أمرین ، لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة نبيه (موطا امام مالك : 1874) یعنی میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے جب تک تم اس کو پکڑے رہو گے، وہ ہیں اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنت ۔
یہ حدیث دین میں قرآن وسنت کی اہمیت کو بتاتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت صرف قرآن وسنت کے لفظی مفہوم کو پکڑے رہے، اور وہ گمراہی سے بچ جائے گی۔ فطرت کے قانون کے مطابق احوال و ظروف ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن وسنت کی عصری تطبیق (contemporary application) کو دریافت کیا جائے، اور قرآن وسنت کی اسپرٹ کے مطابق نئے حالات میں اپنی اسلامی زندگی کی تشکیل کی جائے ۔ اس دینی تقاضے کو ایک حدیث میں اجتہاد کہا گیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أراد أن يبعث معاذا إلى اليمن قال: كيف تقضي إذا عرض لك قضاء؟ قال: أقضي بكتاب الله، قال: فإن لم تجد في كتاب الله؟ ، قال: فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فإن لم تجد في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا في كتاب الله؟ قال: أجتهد رأيي، ولا آلو فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم صدره، وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول الله (ابو داؤد: 3592) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ارادہ کیا کہ معاذ بن جبل کو (بحیثیت عامل) یمن بھیجیں تو آپ نے ان سے فرمایا: تمہارے سامنے جب کوئی معاملہ آئے گا تو اس کا فیصلہ کس طرح کروگے؟ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں اس کا حکم نہ پاؤ؟
انھوں نے کہا تو میں اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کے رسول کی سنت میں اس کا حکم نہ پاؤ، اور نہ اللہ کی کتاب میں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور میں اس میں کمی نہیں کروں گا۔ تو رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا، اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادہ کو اس چیز کی توفیق دی جس چیز سے اللہ کا رسول راضی ہے۔
امت کے تمام علماء نے ہر دور میں دین میں اجتہاد کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، مگر عملاً پچھلے ادوار میں یہ ہوا کہ علماء نے اجتہاد کے اصول کو صرف جزئیاتی مسائل تک محدود رکھا، کلیاتی مسائل میں وہ اجتہاد کے اصول کا انطباق نہ کر سکے۔
مثلاً قرأت فاتحہ خلف الامام پر فقہی بحثیں، آمین بالسر اور آمین بالجهر پر فقہی بحثیں، رمضان میں تراویح کی رکعت پر فقہی بحثیں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام بحثیں، جزئیاتی بحثیں ہیں۔ مگر علماء نے ان جزئیاتی بحثوں کو اتنی زیادہ اہمیت دی، گویا کہ یہی اجتہاد کے اصل موضوعات ہیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد عملاً تقریباً ہزار سال تک وہی روایتی دور (traditional period) قائم تھا جس دور میں کہ اسلام آیا تھا۔ اس لیے اس ہزار سالہ دور میں علما کے اس موقف سے مسلم سماج میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ لوگوں کی دینی زندگی بدستور چلتی رہی۔ لیکن انیسویں صدی عیسوی میں انسانی تاریخ میں ایک بڑا ظاہر ہ پیدا ہوا، جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ یہ ظاہر ہ اکیسویں صدی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا جدید تہذیب نے ہر اعتبار سے زندگی کے نقشے کو بدل دیا ہے۔ اب ضرورت تھی کہ کلیاتی مسائل کی سبت سے اجتہاد کے اصول کو استعمال کیا جائے، اور نئے حالات میں اسلام کی تطبیق نو (reapplication) کو تلاش کیا جائے ۔ مگر علماء اس اجتہاد میں مکمل طور پر نا کام ہو گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ دین کے جزئیاتی مسائل میں اجتہاد کے اصول کی تطبیق جانتے تھے، مگر دین کے کلیاتی مسائل میں اجتہاد کی تطبیق سے وہ کامل طور پر بے خبر تھے۔ اجتہاد کے معاملے میں علماء کی اس ناکامی نے امت مسلمہ کو
عملاً ایک ڈائریکشن لیس (directionless) امت بنا دیا ہے۔
اس معاملے میں کوتاہی کی سب سے بڑی مثال وہ ہے جو جدید تہذیب کی نوعیت کو دریافت کرنے میں ہوئی ۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کا زمانہ جدید تہذیب کئے ظہور کا زمانہ ہے۔ جدید تہذیب کے بعد زندگی کے معاملات میں جو تبدیلیاں ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے جزئیاتی نہیں تھیں، بلکہ کلیاتی اس نوعیت کی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے علماء ذہنی اعتبار سے تیار نہ تھے۔ چنانچہ ساری دنیا کے علماء نے ردِعمل (reaction) کے تحت منفی موقف اختیار کر لیا۔ تمام دنیا کے علماء نے متفقہ طور پر یہ اعلان کر دیا کہ جدید تہذیب اسلام دشمن تہذیب ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا موقف نفرت اور تشدد کا ہونا چاہئے، نہ کہ امن اور مصالحت (compromise) کا۔
امت کی تاریخ میں یہ بلاشبہ سب سے بڑی اجتہادی غلطی تھی۔ اس غلطی کے نتائج امت کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوئے۔ اس کی بنا پر یہ ہوا کہ جدید تہذیب کے مقابلے میں امت اپنا مثبت موقف (positive stand) دریافت نہ کر سکی۔ وہ صرف ردِ عمل کی نفسیات کے تحت مغربی تہذیب اور مغربی اقوام کے خلاف منفی سرگرمیوں میں مبتلا رہی۔ اس منفی موقف کا نقصان جدید تہذیب کو تو نہیں پہنچا، البتہ امت جدید دور میں ایک پس ماندہ امت (backward community) بن کر رہ گئی۔
اب امت اپنے اس موقف کے آخری دور میں ہے۔ یہ دور مایوسی (frustration) کا دور چنانچہ مایوسانہ نفسیات کی بنا پر پوری امت یا تو شکایت اور احتجاج میں مبتلا ہے، یا بے نتیجہ قسم کے گن کلچر اور خود کش بمباری (suicide bombing) میں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جدید تہذیب اسلام کے لیے دشمن تہذیب نہیں تھی، بلکہ وہ ایک مؤید تہذیب (supporting civilization) تھی۔ اسلام میں کوئی نقصان کے بغیر وہ اسلام کے لیے نئے وسیع تر مواقع کھول رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید تہذیب کا ظہور اس پیغمبرانہ پیشن گوئی کی تصدیق تھی جو کہ صحیح البخاری اور دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ اس دین کی تائید فاجر (secular) لوگوں کے ذریعہ بھی کرے گا (صحیح البخاری: 3062)۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں 6 ہجری میں حدیبیہ کا معاہدہ پیش آیا۔ اس کے بعد یہ آیت اتری: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ قرآن کی اس آیت میں فتح مبین (clear victory) اور نصر عزیز (mighty help)
وقتی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ابدی معنی میں ہے۔ اسلام کے حق میں اللہ کی اس نصرت خاص کا ظہور فوری طور پر یہ ہوا کہ اس معاہدہ کے جلد ہی بعد مکہ فتح ہو گیا، اور پھر اسلام سارے عرب میں پھیل گیا۔ یہ گویا موعود فتح مبین کا پہلا مرحلہ (first phase) تھا۔
اس فتح کا دوسرا مرحلہ (second phase) ایک عمل (process) کی صورت میں تاریخ میں جاری ہوا۔ اس عمل نے تاریخ انسانی میں پہلی بار فتح کو مقامی معاملے کے بجائے ایک عالمی واقعہ اللہ کی یہی وہ نصرت خاص ہے، جوجدید تہذیب کی صورت میں اسلام کے حق میں ظاہر ہوئی۔ اس تہذیب کے لیڈر چونکہ سیکولر لوگ تھے، اس لیے علمائے اسلام اس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ حدیث رسول میں پیشگی طور پر امت کو اس سے باخبر کر دیا گیا تھا۔
اس دور کے مسلم علما قرآن و سنت پر زور دیتے رہے، بطور خود انھوں نے سمجھا کہ وہ صراطِ مستقیم پر ہیں، حالانکہ اجتہاد کو عملاً حذف کرنے کی بنا پر وہ صراط مستقیم سے ہٹ چکے تھے۔ اس معاملے کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء ایک غلط آبسیشن (obsession) کا شکار ہو وہ ایک نئے قسم کی ڈائکاٹمس تھنکنگ (dichotomous thinking) کے ٹریپ (trap) میں مبتلا ہو گئے۔ وہ تیسرے آپشن (third option) کو استعمال کرنے سے قاصر رہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ ان مسائل کا حل تیسرے آپشن کو استعمال کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔