With every problem, there are opportunities.
Al-Risala, January 2015, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا یہ اصول، ایک عام اصول ہے۔ وہ فرد کے لیے بھی ہے اور قوم کے لیے بھی۔ قوم دونوں کو ایسا کرنا چاہئے کہ جب ان کی زندگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہ کرے، بلکہ مشکل کو ایک نارمل واقعہ سمجھے اور ساری تو جہ اس بات پر لگادے کہ فطرت کے نظام کے مطابق وہ کون سے مواقع ہیں جو اس مشکل کے ساتھ ہمارے لیے آئے ہیں۔ آدمی کو فطرت کے اس قانون کا شعور ہو تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ پیش آمدہ صورت حال میں کبھی منفی سوچ میں مبتلا نہ ہوگا، اور نہ مایوسی کا شکار ہوگا۔ وہ ہر حال میں اپنے اعتدال کو باقی رکھے گا۔ وہ ہر حال میں نارمل ذہن کے ساتھ حالات پر غور کرے گا، اور نئے مواقع کو استعمال کر کے ان کو آویل (avail) کرے گا، اور بہت جلد ایک نئی ترقی کی اونچائی پر پہنچ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جو لوگ ٹکراؤ کا کلچر چلا رہے ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انھوں نے مسائل کو دریافت کیا، لیکن وہ مواقع کو دریافت نہ کر سکے۔ اگر وہ اس کو جانتے تو اپنی ساری توانائی مواقع کے استعمال میں لگا دیتے۔