مغربی تہذیب ، مؤید تہذیب
Al-Risala, May 2015, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی کے نصف اول میں کمیونزم کا عروج ہوا۔ اس زمانے میں کمیونسٹ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا: جو ہمارا ساتھی نہیں، وہ ہمارا دشمن ہے مگر یہ ثنویت (dichotomy) غلط تھی۔ فطرت کے قانون کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ جو ہمارا ساتھی نہیں، وہ ہمارا امکانی موید (potential supporter) ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم علما اور مسلم رہنما بھی اسی غیر فطری سوچ کا شکار ہو گئے۔ حدیث کے مطابق وہ بصیر زمانہ (صحیح ابن حبان: 361) ثابت نہ ہو سکے۔
اس بے خبری کی بنا پر انھوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ مغربی تہذیب، اسلام دشمن تہذیب حالاں کہ البخاری کی ایک روایت (3062) کے مطابق وہ اسلام مؤید تہذیب (supporting civilization) تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں مولانا شبلی نعمانی نے ایک نظم لکھی، جس کا ایک شعر یہ تھا: کہاں تک لو گے، ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک آسٹریا کے نومسلم لیو پولڈ اسد نے اپنی کتاب Islam at the Crossroads میں لکھا ہے کہ مسیحی یورپ کے لیے اسلام کے خلاف تعصب ان کا پیشی روگ بن چکا ہے۔ Their prejudice against Islam is simply an atavistic instinct شامی عالم الشیخ عبد الرحمن حسن حبنکہ المیدانی نے عربی زبان میں سلسلہ اعداء الاسلام کے تحت کئی کتابیں لکھی ہیں، ان میں سے ایک کتاب یہ ہے: اجنحة المكر الثلاثة و خوافيها (التبشير، الاستشراق، الاستعمار)۔ اس کتاب میں انھوں نے عالمی سطح پر کام کرنے والی تین مسلم مخالف سازشوں کا ذکر کیا ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کر دینا چاہتی ہیں۔ وہ تین سازشیں یہ ہیں، تبشیر (Christian Mission)، استشراق (Orientalism)، استعمار (Colonialism)۔
یہ باتیں بلا شبہ اندھے پن کی حد تک بے خبری کی باتیں ہیں۔ اصل حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حالات میں ایسی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، جس کے نتیجہ میں پورا دور عملاً اسلام کی تائید (support) کا دور بن گیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو مساوات (equation) تھی، وہ حامیانِ حق اور مخالفینِ حق کے درمیان تھی۔ اب جدید تبدیلیوں کے بعد ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوئی ہے، اور وہ ہے حامیانِ حق اور مؤیدینِ حق کی مساوات۔ موجودہ زمانے میں جو نئے ظاہرے پیدا ہوئے ہیں، وہ سب کے سب مؤیدین اسلام (supporters of Islam) ہیں، نہ کہ مخالفین اسلام— مغربی تہذیب، جمہوریت، کھلا پن (openness)، فکری آزادی، مذہبی نا طرف داری، اقوام متحدہ، سائنسی دریافتیں، صنعتی انقلاب، جدید سیاحت (modern tourism)، کانفرنس کلچر، لائبریری کا ادارہ، وغیرہ۔ سب کے سب اسلام کے لیے عظیم تائیدی مواقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بشر طیکہ اہل ایمان ان مواقع کو سمجھیں، اور ان کو یہ امن منصوبہ (peaceful planning) کے تحت استعمال کریں۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ان حقیقتوں سے کیوں بے خبر ہو گئے۔ اس کا سبب ایک بدعت ہے، اور وہ ہے شخصیتوں کو بڑے بڑے لقب (title) دینا۔ جب آپ کسی شخصیت کو بڑا لقب دے دیں تو اس کے بعد سوچنے کا عمل (thinking process) رک جاتا ہے۔ القاب کلچر سے پہلے آدمی کے مائنڈ میں ہمیشہ کا ماہوتا ہے، القاب کلچر کے بعد اس میں فل اسٹاپ لگ جاتا ہے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ کسی کو ملک الاملاک نہ کہو، یعنی شہنشاہ (emperor) کا لقب نہ دو (صحیح البخاری: 6202)۔ شہنشاہ (emperor) صرف سیاسی لقب کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ لقب کلچر کے معنی میں ہے، یعنی لوگوں کو بڑے بڑے القاب نہ دو۔ افراد کو بڑے بڑے لقب (title) دینا، فکری اعتبار سے ایک ہلاکت خیز طریقہ ہے۔ کسی کو بڑا لقب دینے کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر ہوتا ہے کہ لوگ اس شخص کی بات کو حرف آخر (final word) سمجھ لیتے ہیں۔
لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد فکری ارتقا کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔ یہی بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کا حال ہوا۔ مثلا امت میں بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کا لقب دے دیا گیا، فقہائے اربعہ کو مجتہد مطلق کہا جانے لگا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں حسن البنا کو امام کا لقب دینا، شاہ ولی اللہ کو قائم الزمان قرار دینا، اقبال کو دانائے راز سمجھنا، وغیرہ۔ لقب دینے کا یہ طریقہ یقینی طور پر ایک بدعت تھا، اور حدیث کے مطابق بدعت سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس لقب کلچر کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت سے تخلیقی فکر (creative thinking) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس فکری حادثہ کا سب سے بڑا مظہر یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب اسلام کے لیے عظیم تائید (great support) بن کر ابھری تھی، مگر اپنی ذہنی جمود (intellectual stagnation) کی بنا پر مسلمان اس سے کامل طور پر بے خبر رہے۔ جس مغربی تہذیب کو محسن سمجھ کر اس کا استقبال کرنا تھا، اور اس کے پیدا کردہ مواقع (opportunities) کو اسلام کے حق میں استعمال کرنا تھا، اس کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے غیر ضروری طور پر لڑنے لگے۔ اس کے نتیجے میں مزید تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوا۔ بیڑ (مہاراشٹر) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم فرمائیں: Altaf Book Depot Bashir Ganj, Dist. Beed- 431122 Mob. 09325052414, 09175588414 اسپرٹ آف اسلام (الرسالہ انگریش) اب نیوز سروس ایپ newshunt پر آچکا یہ ایپ اینڈ رائڈ، بلیک بیری، ایپل، ونڈوز، وغیرہ اسمارٹ فون پر دستیاب قارئین مذکورہ app پر بک سیکشن میں اسے سبسکرائب کر سکتے ہیں: