Al-Risala · May 2015

منافقانہ کلام

Al-Risala, May 2015, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نساء میں یہودِ مدینہ کے حوالے سے ایک اسلوبِ کلام کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ (46:4)۔ قرآن کی اس آیت میں یہود کا لفظ قریبی حوالہ (ready reference) کے طور پر ہے۔ یہ دراصل ایک انسانی صفت ہے، نہ کہ صرف یہودِ مدینہ کی صفت۔

لِی لسان کا مطلب ہے توڑ مروڑ کر بولنا۔ عوامی زبان میں اس کو کہتے ہیں گھما پھرا کر بات کہنا۔ انگریزی زبان میں اس کو ٹوسٹ (twist) کر کے بولنا کہا جاتا ہے:

Printed page