Al-Risala · May 2015

The newspaper was accused of twisting the facts.

Al-Risala, May 2015, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

لِی لسان کی یہ صفت دراصل کمزور شخصیت (weak personality) کی علامت ہے۔ مذہب کی زبان میں منافقت (hypocrisy) کہا جاتا ہے۔ لِی لسان کی زبان میں کلام کرنے کا اسلوب کیوں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا نفسیاتی سبب اپنے آپ کو درست سمجھنا (self-righteousness) ہے۔ یہ ایک عام انسانی مزاج ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھے، اور غلطی کا الزام دوسرے کے اوپر ڈالتا رہے۔ مزاج کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بات کو اس طرح پیش کرتا ہے جس میں اس کی اپنی ذات صحیح نظر آئے، اور غلطی کی ذمے داری دوسروں کے اوپر چلی جائے۔ یہ اسلوبِ کلام پہلے شعوری طور پر آتا ہے، پھر دھیرے دھیرے وہ آدمی کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ پہلے جو بات اس نے سوچ کر کہی تھی، اب وہ عادت کے طور پر کہنے لگتا ہے۔ یہ عادت اتنی زیادہ عام ہو جاتی ہے کہ آدمی غیر ضروری طور پر بھی لِی لسان کے اسلوب میں بولنے لگتا ہے۔ یہ منافقت ہے، اور منافقت سے زیادہ بری کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔

Printed page