مسلسل فکری ارتقا
Al-Risala, May 2015, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ (3:153)۔ یعنی پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تم سے کھوئی گئی ہے، اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ ایک غم کے بعد دوسرے غم میں مبتلا کرنے کی حکمت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب ایک غم پر کچھ مدت گزر جاتی ہے تو آدمی اس کا خوگر (used to) ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ غم اس کے لیے فکری مہمیز کی حیثیت سے باقی نہیں رہتا۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے اوپر ایک صدمہ کے بعد دوسرا صدمہ ڈالا جائے تا کہ اس کی فکر مسلسل طور پر زندہ (alive) رہے۔ اس کے اندر فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل نان اسٹاپ طور پر جاری رہے۔
انسان لامحدود پوٹینشل (potential) کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس پوٹینشل کو ان فولڈ (unfold) کرنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اس پر صدمہ (shock) کے تجربات گزریں۔ صدمہ بار بار پیش آنا چاہئے، ورنہ انسانی فطرت کے مطابق اس کی تاثیر خبط ہو جائے گی۔ صدمہ خود کوئی فکری واقعہ نہیں۔ صدمہ کا رول صرف یہ ہے کہ وہ آدمی کو شاک (shock) پہنچائے۔ اس صدمہ کے اثر سے اپنے آپ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پوٹینشل ، خود فطرت کے قانون کے تحت ان فولڈ ہوتے رہتے ہیں۔ ویسا ہی واقعہ ہے جیسے سیب کے اوپر دباؤ ڈالنے سے اس کا رس نکلنے لگتا ہے، اور اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک دباؤ کا عمل جاری رہے۔ دباؤ کا عمل ختم ہو جائے تو سیب سے رس کا نکلنا بھی بند ہو جائے گا۔ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی ضرورت شخصیت کا ارتقا ( personality فطرت کے قانون کے مطابق شخصیت کا ارتقا ہمیشہ دباؤ (problems and challenges) کے حالات میں ہوتا ہے، یہ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے کہ وہ ہمیشہ دباؤ کے حالات میں رہے تا کہ اس کی شخصیت کا ارتقا غیر منقطع (non-stop) طور پر جاری رہے۔