شکر اور ناشکری
Al-Risala, May 2015, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غزوہ پیش آیا جس کو غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ غزوہ میں کافی بھیڑ بکری غنیمت کی صورت میں حاصل ہوئیں ۔ رسول اللہ نے غنیمت کا سامان مہاجرین میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا (و لم يعط الانصار شیئا )۔ اس واقعہ کو لے کر کچھ انصار کے درمیان شکایت پیدا ہوئی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے انصار، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکری لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں کو لے جاؤ أترضون أن یذهب الناس بالشاة والبعیر، وتذهبون بالنبي إلى رحالکم) صحیح البخاری:4330۔
اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ دوسروں کو اگر میں نے بھیڑ بکری دی ہے تو تم کو تو میں نے خود اپنے آپ کو دے دیا۔
یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ وہ اپنے ملے ہوئے کونہیں دیکھ پاتا اور دوسرے کو جو کچھ ملے وہ اس کو بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ملی ہوئی چیز بظاہر زیادہ ہوتی ہے، اور نہ ملی ہوئی چیز بظاہر کم۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کا مزاج بے حد خطر ناک ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے گا، وہ ناشکری میں جینے لگے گا۔ اور یہ نقصان بلا شبہ تمام نقصانات سے زیادہ ہے۔ جو چیز آدمی کے اندر ناشکری پیدا کرے اس کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں۔
دین میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے۔ اس کے صبح و شام شکر کی نفسیات میں بسر ہوتے ہوں۔ لیکن ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں اپنے شکر کی حفاظت شکر کی حفاظت کرنے سے شکر باقی رہے گا، اور حفاظت نہ کرنے سے شکر کا احساس آدمی کے اندر سے رخصت ہو جائے گا۔ ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے، جب کہ آدمی ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے۔