خبر نامه اسلامی مرکز 233
Al-Risala, May 2015, pp. 45–49
By Maulana Wahiduddin Khan
سویڈش ریسرچ اسکالر مسٹر متھیاس (Mattias Dahlkvist) نے صدر اسلامی مرکز کا مفصل انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا، اسلام کی اسی تعبیر، اور موجودہ مسلمان۔ یہ انٹرویو دسمبر 2015 کی 6 اور 9 تاریخ کو ہوا۔ سویڈن کی امیاس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں، اور اس سے پہلے بھی صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لے چکے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بک فیر لگے، مثلاً الہ آباد، کولکاتا، چنئی، حیدر آباد، بنگلور، دہلی وغیرہ۔ ان تمام بک فیر میں سی پی ایس کے علاقائی چیپٹرز نے اپنا اسٹال لگایا تھا۔ مسلم اور نان مسلم دونوں قارئین کا رسپانس بہت ہی اچھا رہا۔ چینل، مثلاً زی سلام، ای ٹی وی اردو، دور درشن، وغیرہ نے اسٹال پر آکر انٹرویو لیا۔ ایک ویٹرن نے کہا کہ میں بہت دنوں سے قرآن کی تلاش میں تھا، ایک نے کہا کہ میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں، ایک نے کہا کہ سب کو قرآن پڑھنا چاہیے، وغیرہ۔ سینٹر فار پیس بنگلور نے 26-28 دسمبر 2014 کو ایک ورکشاپ منعقد کیا تھا۔ جس میں بنگلور کے سی پی ایس مشن کے تحت کام کرنے والے داعیوں نے حصہ لیا۔ اس ورکشاپ کا موضوع تھا، Peace and Positivity۔ ہونے والوں نے اس کو اپنے لیے فائدہ مند بتایا۔
روشنی آئی بینک (eye bank) سہارن پور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشوک جین نے 28 دسمبر 2014 کو ایک پروگرام آرگنائز کیا تھا۔ پروگرام کے آخر میں شریک ہونے والے تمام سرجن اور ہاسپٹل میں موجود تمام مریضوں کو ہندی ترجمہ قرآن اور سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ یہ لٹریچر پی سی ایس کے سہارن پور چیپٹر نے مہیا کیا تھا۔ کوالالمپور، ملیشیا میں صبا اسلامک میڈیا نے اسٹریٹ دعوہ کا کام شروع کیا ہے۔ ملیشیا کے سابق وزیراعظم ماثر محمد نے 8 جنوری 2015 کو اس پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس پروگرام کا مٹو یہ ہے : One Soul One Quran۔ اس پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز کا انگلش ترجمہ قرآن ملیشیا آنے والے ٹورسٹوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اور تقریباً 80 یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اس دعوتی کام میں حصہ لیں گے۔
9 جنوری 2015 کو جرمنی کے ایک ڈیلی گیشن کو صدر اسلامی مرکز نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ سی پی ایس دہلی کے ممبران نے بھی خطاب کیا۔ خطاب کے موضوعات تھے، اسلام اور امن، جہاد، اسلام میں عورت، سماجی زندگی، آخر میں سوال وجواب بھی ہوا۔ وفد کے تمام اراکین کو قرآن کا جرمن ترجمہ اور دیگر جرمن کتابیں دی گئیں۔ 25-26 جنوری 2015 کو ممبئی ٹیم نے کولکاتا کا دعوتی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد مشن کے کام کو آگے بڑھانا اور دوسرے علاقوں میں مشن کے تحت کام کر رہے لوگوں کو اس طرح کے دعوتی دورے کی ترغیب دینا تھا۔ اس دعوتی و تربیتی پروگرام میں ممبئی ٹیم، کولکاتا ٹیم، ہاوڑہ ٹیم، دارجلنگ ٹیم، بہار ٹیم اور تامل ناڈو ٹیم کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔
22 فروری 2015 کو سہارن پور جن منچ اور سی پی ایس سہارن پور نے مل کر انٹر کالج کے طلبہ کے لیے
ایک مقابلہ کا پروگرام منعقد کیا تھا۔ جس میں اول نمبر آنے والے 150 طلبہ کو صدر اسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن دیا گیا۔ 23 فروری 2015 کوسی پی ایس مشن کی ایک ٹیم نے سیکریڈ ہارٹ کالج، چنئی کے ایم اے (فلسفہ) کے طلبہ کے سامنے اسلام اور سی پی ایس مشن کے موضوع پر لکچر دیا۔ تمام سامعین نے اس کو بہت پسند کیا۔ 25 فروری 2015 کو سی پی ایس کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے آئی آئی ٹی دہلی میں ’’اسلام: مذہب امن‘‘ کے موضوع پر ایک پاور پوائنٹ پرزنٹین دیا۔ لکچر کے بعد سوال وجواب ہوا۔ پروگرام کے آخر میں قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر تمام سامعین کو بطور گفٹ دیا گیا، جسے تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ ذیل میں ایک طالبہ کا تاثر نقل کیا جارہا ہے جو اس نے لکچر سننے کے بعد دیا ہے:
I never realized how important was the area in which the Centre for Peace and Spirituality was working till the time I attended the talk. After listening to the talk, it seemed as if Islam is one of the most sacred and peaceful religions of the world. It becomes difficult to accept the fact that people who indulge in violence call themselves followers of this religion. I really appreciate the work being done by CPS and its efforts in making people more humane in their approach towards fellow human beings. I was touched by the content of the talk and look forward to learning more in the area. (Shilpa Gahlot, IIT Delhi)
بڑی خوشی کی بات ہے کہ صدر اسلامی مرکز کی کتاب امن عالم کا انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔ ورژن کا نام ہے: Islam and World Peace۔ اس کے علاوہ ایک کتابچہ، اسلامی جہاد شائع ہو چکا ہے۔ جرمنی کے ایک پبلشر نے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کو شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، یہاں ان کا پیغام نقل کیا جارہا ہے:
I am enthused with Maulana's books, and I think it is a great pity that they have not been translated into the German language yet. That is a service I would like to render. I would be glad if you could support me in my endeavor to introduce the books of this outstanding scholar to the German-speaking audience. I am sure the people in Germany would derive much benefit from them. May Allah reward the Maulana abundantly. (Mohammed Ardouz, Iqra Publications, Koln, Germany) ذیل میں کچھ دعوتی تاثرات نقل کیے جارہے ہیں:
• میں ایک گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے کام کر رہی تھی۔ 1992 سے الرسالہ کی قاری ہوں جس زمانہ میں ، میں الرسالہ سے متعارف ہوئی اس زمانہ میں میں بہت ہی زیادہ اسٹریس (stress) اور گھریلو مسائل سے
گزر رہی تھی۔ اگر میں اس زمانہ میں الرسالہ سے متعارف نہ ہوتی اور مجھے صبر والی تعلیمات اور اس کا صحیح explanation نہ ملتا ہو تا تو میں نفسیاتی طور مکمل ٹوٹ گئی ہوتی، میں اور میری فیملی مکمل طور سے بکھر کر رہ جاتی۔ الرسالہ نے مجھے اللہ سے جوڑا، میرے اندر صبر، قناعت، توکل، شکر جیسی صفات پیدا کیا، حالات کا تجزیہ کر کے اس کی مناسبت سے اس کا صحیح رسپانس دینے کی صلاحیت پیدا کی۔ الرسالہ کے بعد ہی میرے اندر قرآن کے معانی کو جاننے کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے اپنی لڑکی کی شادی میں قرآن کا ڈسٹریبیوشن بھی کیا، اور مسلسل قرآن ساتھ میں رکھتی ہوں تا کہ کوئی بھی دعوتی موقعہ ہاتھ سے نہ جائے ۔ ریٹائر منٹ کے بعد میرا قر آن سے تعلق مزید بڑھ گیا ہے، اب cps کی ایکٹیو ممبر کی حیثیت سے کام کرنا چاہتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ مجھے القرآن مشن کا ایک حصہ بنادے، اور اسلام کے پیغام امن کو عام کرنے کی توفیق بخشے (آمین) رحمت النساء، بنگلور انڈیا کے ایک بڑے مسلم ادارے نے الرسالہ کے تئیں پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے یہ خط لکھا ہے: محترم جناب ایڈیٹر صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، آپ کا مجلہ الرسالہ اپنی تمام تر خصوصیتوں اور عمدہ طباعت کے ساتھ ادارے کی لائبریری کو پابندی سے موصول ہو رہا ہے۔ یہ مجلہ علمی و تحقیقی اور حسن انتخاب کے لحاظ سے طلبہ واساتذہ کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ اللہ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ محترم، اس مجلہ سے کم و بیش چار ہزار طلبہ و طالبات، اساتذہ و معلمات استفادہ کرتے رہے ہیں، اور عوام و خواص کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس کو کافی پسند کیا ہے۔
Feedback from a reader of the Spirit of Islam: The January 2015 issue of the Spirit of Islam carried valuable information for readers. I liked the article 'Starting from Scratch'. The words, “Poverty is not deprivation, rather it is a challenge. Deprivation is a great motivator for achievement”, are indeed noteworthy. Kindly spread ahimsa, love and affection through your journal. The write-up Get Rid of Depression will be useful to many. Promotion of global peace is the need of the hour. Albeit the title of your magazine, the articles are of universal significance. I wish you all the best on the occasion of the beginning of your third year with this issue. I congratulate the editorial committee for the efforts they take to publish the magazine. (S. Balasubramanian, Tamil Nadu)
I give the Quran and What is Islam booklet to many non-Muslims such as doctors, professors and other people. I always put some books on Islam in my bag when I am going to school or somewhere away from home. This way I am able to give books to many people including new friends I meet, (Adama
تاریخ دعوت حق تاریخ کا سبق تعبیر کی غلطی تعمیر کی طرف حقیقت کی تلاش حل یہاں ہے اسلام: ایک تعارف اسلام: ایک عظیم جدوجہد اسلام اور عصر حاضر اسلام پندرہویں صدی میں اسلام دور جدید کا خالق اسلام دین فطرت اسلام کا تعارف اسلام کیا ہے راہیں بند نہیں رہنماۓ حیات (پمفلٹ)
سبق آموز واقعات سفرنامہ اسپین و فلسطین سفرنامہ (غیر ملکی اسفار، جلد اول) سفرنامہ (غیر ملکی اسفار، جلد دوم) سوشلزم اور اسلام سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ عورت معمارِ انسانیت فسادات کا مسئلہ قال اللہ وقال الرسول قرآن کا مطلوب انسان کشمیر میں امن مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے مذہب اور جدید چیلنج مذہب اور سائنس مطالعہ سیرت (پمفلٹ)
| الربانیہ | خاندانی زندگی (پمفلٹ) | شتم رسول کا مسئلہ | منزل کی طرف امہات المومنین (ڈاکٹر فریدہ خانم) خلیج ڈائری انسان اپنے آپ کو پہچان دعوت اسلام انسان کی منزل دعوت حق ایمانی طاقت دین انسانیت آخری سفر دین کامل باغ جنت دین کی سیاسی تعبیر پیغمبر اسلام دین کیا ہے پیغمبر انقلاب دین و شریعت تذکیر القرآن دینی تعلیم طلاقِ اسلام میں علما اور دورِ جدید مولانا مودودی، شخصیت اور تحریک (ڈاکٹر فریدہ خانم) میوات کا سفر نئے عہد کے دروازے پر ہندوستان آزادی کے بعد یکساں سول کوڈ
دنیا میں ہر آدمی کے لئے کوئی نہ کوئی نقصان مقدر ہے۔ وہ ہے جو نقصان کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہو جائے۔