حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ
Al-Risala, June 2015, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
لی کوان یئو (Lee Kuan Yew) سنگاپور کے فاؤنڈر پرائم منسٹر تھے۔ وہ 91 سال کی عمر میں 23 مارچ 2015 کو سنگاپور میں وفات پاگیے۔ سنگاپور پہلے جغرافی اعتبار سے ملیشیا کا ایک سرحدی حصہ تھا۔ 1965 میں وہ ایک علاحدہ ملک (separate state) بنا۔ مسٹرلی سنگاپور کے پہلے پرائم منسٹر بنائے گئے تھے۔ اُس وقت سنگاپور ایک غیر ترقی یافتہ ملک تھا، اور وسائل سے محروم بھی۔ مسٹرلی نے سنگاپور کو صرف پہلی جنریشن میں اول درجے کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ آج سنگاپور میں ہر طرف ڈیولپمنٹ کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ سنگاپور کے ایک تعلیم یافتہ باشندے نے ایک اخباری رپورٹر سے بات چیت کے دوران کہا کہ جو لوگ یہاں مسٹرلی کی یادگار (monument) دیکھنا چاہتے ہیں، سنگاپور کے لوگ فخر کے ساتھ ان سے کہیں گے کہ اپنے چاروں طرف دیکھو، سنگاپور کا ہر گوشہ مسٹرلی کی روشن یادگار ہے۔
“To those who seek Lee Kuan Yew’s monument, Singaporeans can reply proudly: Look around you.”
(The Times of India, Delhi, March 30, 2015, p.16)
سنگاپور کی ترقی جدید تاریخ کا ایک معلوم واقعہ ہے۔ مگر اس ترقی کو عام طور پر لوگ ایک شخص کا کارنامہ بتاتے ہیں، یعنی سنگاپور کے پہلے وزیر اعظم کا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ ایک انسان کا شخصی کارنامہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک انسان کی اختیار کردہ درست پالیسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مسٹرلی ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص تھے۔ انھوں نے اپنے مطالعے کے ذریعے ممکن (possible) اور ناممکن (impossible) کے فرق کو جانا۔ انھوں نے اس حقیقت کو دریافت کیا کہ سنگاپور کی ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی نیشنل پالیسی کو مثبت بنیادوں پر قائم کرے۔ سنگاپور نہ ملیشیا سے ٹکراؤ کرے، نہ وسائل کے مفقود ہونے کی شکایت کرے ۔ نہ یہ کرے کہ کسی سازش (conspiracy) کو دریافت کر کے اپنے مفروضہ دشمن کے ظلم کا تحریری اور تقریری پروپیگنڈہ کرے ۔
مسٹرلی نے اس قسم کی کسی منفی سوچ کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ سنگاپور کے دستیاب وسائل (available resource) کو دانش مندانہ پلاننگ کے ذریعے ڈیولپ کرنا انھوں نے کسی غیر حاصل شدہ کو حاصل کرنے پر ایک دن بھی ضائع نہیں کیا۔ صرف حاصل شدہ کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنایا نہ کہ غیر حاصل شدہ کی بنیاد پر۔ اس پالیسی کا نام مثبت پالیسی ہے۔ یہی مثبت پالیسی تھی جس نے مسٹرلی کو یہ موقع دیا کہ وہ مختصر مدت میں ڈیولپمنٹ کا ایک ایسا کارنامہ انجام دیں، جس کی مثال کسی اور ملک میں مشکل سے ملے گی۔ یہ دنیا فطرت کے قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، ہر ایک کے لیے ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے اس ابدی قانون کو دریافت کرے اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ جس طرح اس دنیا کا خالق خدا ہے، اسی طرح دنیا کا نظام بھی خالق کے منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔ اس دنیا کے بارے میں خالق کا مقرر کردہ قانون یہ ہے کہ فطری طور پر جو مواقع آدمی کو حاصل ہیں، ان کو دریافت کر کے انھیں ترقی دینا، نہ کہ غیر حاصل شدہ مواقع کے لیے بے فائدہ پروٹسٹ کرنا۔
سنگاپور نسبتاً ایک چھوٹا جزیرہ ہے، اس کی حیثیت صرف ایک سٹی اسٹیٹ کی ہے۔ سے سنگاپور کا بظاہر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سنگاپور کا رقبہ بڑھایا جائے۔ لیکن سنگاپور کے دانش مند لیڈر نے اس حقیقت کو جانا کہ موجودہ زمانہ نئے امکانات کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر آپ کے پاس محدود رقبہ زمین ہے تو آپ ملٹی اسٹوری بلڈنگ کے ذریعے عمودی توسیع (vertical growth) کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف ایک مقامی آفس ہے تو آپ ماڈرن کمیونی کیشن کے ذریعے اس کی پہنچ کو سارے عالم تک وسیع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اپنے ملک میں تجارت کے مواقع کم ہیں تو آپ سی پورٹ اور ایرپورٹ کے ذریعے اپنی تجارت کو عالمی دائرے میں پھیلا سکتے ہیں، وغیرہ۔ سنگاپور کے دانش مند لیڈر نے نئے امکانات کو دریافت کیا اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کیا، اور دنیا نے دیکھا کہ محدود مدت کے اندر سنگاپور ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔
سیکا ہے وہ اپنی طاقت دوسری قوموں سے لڑنے
میں ضائع کر رہے ہیں ۔ وہ دوسروں سے صرف نفرت کرتے ہیں ۔ حالاں کہ اگر وہ نئے امکانات کو جانتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ نئے حالات نے دوسروں کو ان کا مددگار بنا دیا ہے۔ وہ دوسروں کا سپورٹ لے کر اپنے آپ کو اعلی ترقی کے منازل تک پہنچا سکتے ہیں ۔
فطرت کے قانون کے مطابق اس دنیا میں ترقی کا راز یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے مفروضہ ظالموں کو دریافت کریں، آپ یہ دریافت کریں کہ آپ کے خلاف کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں ۔ اس قسم کی دریافتیں صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے نہ فطرت کے قانون کو جانا، اور نہ زمانے کے مواقع (opportunities) کو سمجھا۔ آپ خدا شناسی سے بھی محروم ہیں، اور انسان شناسی سے بھی۔ مگر اس دنیا کے لیے اس کے خالق کا قانون یہ ہے کہ جو حقائق (realities) سے باخبر ہو، وہ کامیابی کی تاریخ بنائے ، اور جو شخص یا قوم حقائق سے بے خبر ہو وہ دنیا میں صرف شکایت اور احتجاج کرنے والا ایک محروم جائے اور روبرو پیش کیا جا سکے۔ برآمدہ یا میں گروہ بن کر رہ جائے ۔