Al-Risala · June 2015

دعوتِ دورِ تعقل میں

Al-Risala, June 2015, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتِ ارشادِ امّت کا پیغام ان مشہورسفر کے تجربوں کی روشنی میں جن کو دعوت یا شہادت کا یہ پیغمبرانہ سفر کرتے ہوئے، اب پندرھویں صدی ہجری (اکیسویں صدی عیسوی) میں داخل ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانہ کو دورِ تعقل (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اب ضروری ہے کہ جدید ذہن (modern mind) کی نسبت سے اس کو عقلی طور پر مدلل صورت میں پیش کیا جائے ۔ اس کے بغیر مطلوب معیار پر اس کام کی انجام دہی نہیں ہوسکتی ۔ بعد کے دور میں شہادت کا یہ دعوتی عمل عالمی سطح پر مزید اضافے کے ساتھ انجام پائے گا۔ دعوتی واقعے کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دور آئے گا جب کہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ کے اس کام کو حجت (reason) کی سطح پر انجام دینا اس وقت امت کے جو افراد وقت کے استدلالی معیار پر اس دعوتی کام کو انجام دیں گے، سياستِ مدن “اور تصورِ شاہین‘‘

وہ اللہ کے یہاں بہت بڑے درجے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس دور میں اللہ کے جو بندے اس کام کو اس کے مطلوب معیار پر انجام دیں گے، ان کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہذا اعظم الناس شهادة عند رب العالمين (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں کے اوپر سب سے بڑی شہادت (دعوت) ہوگی۔

Printed page