Al-Risala · June 2015

خود کش حملہ

Al-Risala, June 2015, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ان کی زوال یافتہ قومی نفسیات کے تحت ایک ایسا ظاہر ہ پیدا ہوا ہے جو غالباً تحلیل حرام (يسمونها بغير اسمها فيستحلونها: سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145) کی سنگین ترین صورت ہے، اور وہ ہے خودکش بمباری (suicide bombing)۔ یعنی مفروضہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے آپ کو بم سے اڑا دینا۔

یہ طریقہ بلاشبہ نص شرعی کے مطابق ایک حرام فعل ہے۔ کچھ علماء نے بطور خود، خودکش بمباری کے اس فعل کو استشہاد ( طلب شہادت ) کہہ کر جائز قرار دیا ہے۔ مگر اس قسم کا استدلال گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی خود ساختہ فتویٰ خودکش بمباری جیسے صراحتاً نا جائز فعل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔

ایک حدیث اس معاملے میں قطعی حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے، مثلاً صحیح البخاری ( حدیث نمبر 3062) ، صحیح مسلم ( حدیث نمبر 112) ، مسند امام احمد ( حدیث نمبر 8090) ، وغیرہ ۔ ان مختلف روایتوں کے الفاظ تقریباً یکساں ہیں۔ مطابق، صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔

ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو ایمان لا چکا تھا۔ اس کا نام قزمان تھا۔ جنگ ہوئی تو یہ شخص شدید طور پر لڑا۔ لوگ اس کی بہادری کی تعریف کرنے لگے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کہا کہ وہ اہلِ جہنم میں سے ہے (إنّه من أهل النار)۔ لوگوں کو آپ کے اس قول پر یقین نہیں ہوا۔ آپ نے کہا کہ جا کر اس کی تحقیق کرو۔ جب لوگوں نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جنگ میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا پھر زخموں کی تاب نہ لا کر اس نے اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے ہلاک کرلیا( فقَتل نفسه)۔ اس کے بعد آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام میں خودکشی مطلق حرام کی حیثیت رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ کوئی شخص بظاہر پیغمبر کا ساتھی ہو، اور وہ غزوہ میں لڑ کر بہادری دکھائے لیکن آخر میں وہ اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے مار کر اپنا خاتمہ کرلے تب بھی اس خودکشی کی بنا پر اس کی موت، حرام موت قرار پائے گی۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اگر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے، اور وہ لڑتے ہوئے مارے جائیں تو یہ جائز ہے۔ لیکن قصداً اپنے جسم کے ساتھ بم باندھنا، اور مفروضہ دشمنوں کے درمیان جا کر بم کا دھماکا کر دینا، جس میں وہ آدمی خود بھی مرے، اور دوسرے بھی مارے جائیں۔ یہ طریقہ صراحتاً خودکشی کا طریقہ ہے، اور وہ یقینی طور پر اسلام میں اہل ایمان کے لیے حملے کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے۔ اور اگر وہ مقابلہ کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں تو اس کے بعد ان کے لیے کرنے کا جو کام ہے، وہ صبر ہے، نہ کہ خودکش حملہ۔ مگر اس معاملے میں موجودہ مسلمانوں کا آبسیشن (obsession) اتنا بڑھا ہوا ہے کہ کوئی اس پر سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ بے فائدہ جنگ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا، حتى يأتي على الناس يوم لا يدري القاتل فيم قَتَل، ولا المقتول فيم قُتِل۔ فقيل : كيف يكون ذلك ؟

الهرج، القاتل والمقتول في النار (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2908)۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، دنیا ختم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا، جب کہ قاتل یہ نہیں جانے گا کہ اس نے کیوں قتل کیا، اور مقتول یہ نہیں جانے گا کہ اس کو کیوں قتل کیا گیا۔ کہا گیا کہ ایسا کیوں کر ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ ایسا ہرج (بے معنی قتل و قتال) کے زمانے میں ہوگا۔ قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ ہرج کا مطلب شارحین حدیث نے بتایا ہے : شدة القتل و كثرته (عمدة القاري، جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 58)۔ یعنی قتل و قتال کی شدت اور کثرت۔ اس قسم کے مجنونانہ قتل و قتال کی صورت کسی گروہ میں کب پیش آتی ہے ۔ جب وہ گروہ قوم پرستی میں دوسروں کے خلاف اندھی دشمنی تک پہنچ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال ہے۔ ان کے اندر آخری حد تک یہ ذہن پیدا ہو گیا ہے کہ انھوں نے قومی حمایت میں دوسروں کو اپنا ابدی دشمن سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دوسری قومیں ان کے خلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتی ہیں۔ اس خود ساختہ سوچ کی بنا پر دوسری قوموں کے خلاف ان کے دل میں جنون کی حد تک نفرت اور تشدد کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر تشدد (violence) کا جو انتہا پسندانہ ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ صرف دوسری قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو گئے ہیں، بلکہ خود ان مسلمانوں کے خلاف بھی، جن کے بارے میں وہ یہ فرض کر لیں کہ وہ ان کے دشمنوں کے حامی ہیں۔

موجودہ زمانے میں یہ حال ہے کہ مسلمانوں کے مختلف ٹیررسٹ (terrorist) گروپ بن وہ مختلف مقامات پر قتل و قتال کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں، حتی کہ اسکول کے بچوں، مسجد کے نمازیوں، اور قبرستان کے سوگوار افراد پر بھی قتل و قتال کا یہ ان جسٹیفائڈ (unjustified) ہنگامہ اتنا زیادہ ہے، جیسے کہ ان لوگوں نے قتال برائے قتال کو خود ایک مطلوب کام سمجھ لیا ہے۔ خواہ اس کے لیے ان کے پاس کوئی معقول سبب (justified reason) موجود نہ ہو۔

Printed page