Al-Risala · June 2015

پیغمبرِ اسلام کی آخری وصیت

Al-Risala, June 2015, pp. 28–30

By Maulana Wahiduddin Khan

آج شدید ضرورت ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے اس انتباہ کو تمام دنیا کے مسلمانوں کو یاد دلایا جائے جو آپ نے اپنے آخری زمانے میں حجۃ الوداع کے موقع پر دیا تھا۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق اس کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم النحر فقال : يا أيها الناس أي يوم هذا؟ ، قالوا : يوم حرام، قال: فأي بلد ، قالوا: بلد حرام، قال: فأي شهر هذا؟ ، قالوا : شهر حرام، قال : فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا، فأعادها مرارا، ثم رفع رأسه فقال : اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت - قال ابن عباس رضي الله عنهما: فو الذي نفسي بيده، إنها لوصيته إلى أمته، فليبلغ الشاهد الغائب، لا ترجعوا بعدي كفاراً، يضرب بعضكم رقاب بعض (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1739)۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو لوگوں کے سامنے ایک خطبہ دیا۔ آپ نے کہا کہ اے لوگو، آج کون سا دن ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ یومِ حرام پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ شہر حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ حرام کا مہینہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سن لو کہ تمھارا خون، تمھارے مال، اور تمھاری عزت تمھارے اوپر حرام ہے، جیسا کہ آج کا دن حرام کا دن ہے، اور تمھارے اس شہر میں، اور تمھارے اس مہینے میں۔ آپ نے یہ کلمات بار بار فرمائے۔ پھر آپ نے سر اٹھایا، اور فرمایا کہ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا، اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک یہ آپ کی وصیت ہے اپنی امت کے لیے، پس جو حاضر ہے وہ ان کو پہنچادے جو حاضر نہیں ہے، (پھر ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ذکر کیا) تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ امت کے لیے کرنے کا کام موجودہ زمانے میں امت مسلمہ عام طور پر منفی ذہن میں مبتلا ہو گئی ہے۔ یہ صرف ان کی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ہے۔ اپنی منفی سوچ کے تحت وہ دوسری قوموں کو اپنے دشمن کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں۔ کچھ لوگوں کے اندر یہ مزاج سوچ کی حد تک ہے، اور کچھ لوگ اپنی اس سوچ کے تحت قتل و قتال میں مشغول ہیں۔ یہ بلاشبہ وہی خطر ناک علامت ہے، جس کی طرف احادیث میں پیشگی طور پر باخبر کیا گیا تھا۔

آج فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے افراد اپنے اندر مثبت ذہن (positive thinking) پیدا کریں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھنے کا مزاج کلی طور پر ختم کر دیں۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے کہ ان کی حیثیت ایک قوم کی نہیں ہے، بلکہ ایک اصولی گروہ کی ہے۔ ان کا مشن صرف ایک ہے، اور وہ پر امن دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کو

انھیں یک طرفہ خیر خواہی کے تحت انجام دینا ہے۔ اگر دوسرے لوگ ان کے خیال کے مطابق ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کریں تب بھی انھیں اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر لوگوں کا خیر خواہ بننا ہے، اور ان کو اللہ کا وہ پیغام پہنچانا ہے جو ان کے پاس قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا عمل ان کو آخرت کی پکڑ سے بچانے والا نہیں۔ اسلام کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے درمیان جو ممتشددانہ سرگرمیاں جاری ہوئیں، ان پر اب ایک صدی سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ لیکن ان کی یہ سرگرمیاں ہر محاذ پر نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہو گئیں۔ وہ مسلمانوں کے حق میں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوئیں۔ ان تشددانہ سرگرمیوں کا یہ منفی انجام بتاتا ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کو اللہ کی مدد حاصل نہیں۔ اس معاملے میں ان کو اللہ کی مدد ملتی تو وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی سرگرمیوں پر نظر ثانی کریں۔ وہ تشدد کا طریقہ یک لخت چھوڑ دیں، اور پر امن دعوتی عمل (peaceful dawah work) میں مصروف ہو جائیں۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جو مسلمانوں کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنا سکتا ہے۔ (یہ مضمون کتابچہ کی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے) بنگلور میں مولا نا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں ، دعوتی لٹریچر، ماہ نامہ الرسالہ اور سبسکرپشن آف انگریزی الرسالہ (Spirit of Islam) کے لئے رابطہ قائم فرمائیں: Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22118978, Mob. 09060511653 سہارن پور (یوپی) میں مولا نا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے ، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں : Dr. M. Aslam Khan (Principal)

Printed page