Al-Risala · June 2015

قرآن کی حفاظت

Al-Risala, June 2015, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی کچھ آیتیں وہ ہیں جن کو احکام کی آیتیں کہا جاتا ہے۔ قرآن کی آیتوں کا دوسرا حصہ وہ ہے، جن کو حکمت (wisdom) کی آیات کہنا درست ہوگا۔ یہ حکمت کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے۔ اس سے مراد فطری حکمت (natural wisdom) ہے، یعنی حکمت کے وہ اصول جن پر دنیا کا نظام قائم ہے، اور جن کی پیروی کرکے کوئی انسان، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکتا ہے۔ قرآن واحد محفوظ الہامی کتاب ہے۔ اس حقیقت کا اظہار قرآن میں پیشگی طور پر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی یہ یاد دہانی (کتاب) ہم نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

قرآن کی حفاظت کا یہ کام ثابت شدہ تاریخ کے مطابق چار ادوار (periods) میں انجام پہلے دور میں یہ کام زیادہ تر حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوا۔ دوسرے دور میں حفاظتِ قرآن کا یہ کام تحریر (writing) کے ذریعہ انجام پایا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں یہ کیا کہ حفظ قرآن کے ساتھ وہ جزئی یا کلی طور پر قرآن لکھتے رہے۔ کتابت کا یہ کام قدیم زمانے کی دستیاب چیزوں پر ہوتا رہا جن میں قدیم طرز کا کاغذ (قرطاس) بھی شامل ہے۔ اس کے بعد پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا۔

انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس ساری دنیا میں عام ہو گیا۔ اس کے بعد قرآن مطابع میں چھاپا جانے لگا۔ اس کے مجلد نسخے بڑی تعداد میں تیار کیے گئے۔ یہ مطبوعہ نسخے ہر جگہ پھیل گئے۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی کا زمانہ آیا، اور اب انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون پر پورا قرآن، تحریر اور آواز دونوں صورتوں میں محفوظ ہو چکا ہے۔

ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا، اس وقت پورے ملک عرب کی زبان عربی تھی۔ لیکن دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان کا بھی یہ حال تھا کہ مختلف علاقوں کے عرب قبیلے مختلف لہجے

میں عربی بولتے تھے۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام جب پورے عرب میں پھیل گیا تو ہر ایک کا قرآن باعتبار متن ایک ہی قرآن تھا، لیکن قرآن کو پڑھنے کا لہجہ سب کا ایک نہ تھا۔ اس وقت لوگوں کی سہولت کے لیے یہ کہا گیا کہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ باعتبار نزول قرآن کے سات لہجے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اپنے لہجے کے اعتبار سے قرآن کے پڑھنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، یہ ایک عملی بات تھی نہ کہ کوئی نظری بات۔

قرآن کے متن (text) کی حفاظت کے لیے صحابہ نے آخری انتہائی طریقہ اختیار کیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر کے حکم سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو کاغذ پر لکھ کر اس کا مصحف تیار کیا جس کو ربعہ کہا جاتا تھا۔ یہ کام انھوں نے ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کے اصول پر کیا، یعنی لکھے ہوئے کو حفظ سے چیک کرنا، اور حفظ کو لکھے ہوئے سے چیک کرنا۔ اس طرح جو کاغذی نسخہ (ربعہ) تیار ہوا اس کو خلیفہ اول کے حکم سے رسول اللہ کی زوجہ حفصہ کے گھر پر رکھ دیا گیا۔

ایک مصحف (ربعہ) کی صورت میں لکھے جانے سے پہلے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزا مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے موجود تھے۔ مستند مصحف تیار ہونے کے بعد خلیفہ اول کے حکم سے اور تمام صحابہ کی رائے سے یہ کیا گیا کہ ان تمام مختلف اجزا کو جلا دیا گیا۔ حرق مصحف کا یہی واقعہ دوسری بار خلیفہ ثالث حضرت عثمان کے زمانہ میں پیش آیا۔ اس مدت میں لوگوں نے بطور خود جزئی یا کلی طور پر مصاحف لکھ لیے تھے۔

ان مصاحف میں ان کے قبائل کی قرأت کا اسلوب شامل ہو گیا تھا۔ حضرت عثمان نے یہ کیا کہ زید بن ثابت انصاری کی قیادت میں صحابہ کی ایک کمیٹی بنائی۔ پھر انھوں نے حضرت حفصہ کے پاس جو مصحف صدیقی محفوظ تھا اس کو منگوایا، اور صحابہ سے کہا کہ اس کی نقلیں تیار کرو۔ اس طرح مصحف صدیقی کی سات نقلیں تیار کی گئیں۔ پھر خلیفہ کے حکم سے ان نقلوں کو مدینہ اور دوسرے شہروں کی مسجدوں میں رکھوا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت عثمان نے مزید اہتمام یہ کیا کہ لوگوں نے بطور خود قرآن

کر سکتے ہیں، نسید کا تو یہ ہے کہ جمع کرتا ہے مال کو اور گنتا ہے فائدہ نہ ہو کا کے جو تحریری نسخے تیار کیے تھے، ان کو جمع کروایا اور پھر صحابہ کے اتفاق رائے سے ان تمام مصاحف کو جلا دیا گیا- یہ کام بہت جرات کا طالب تھا۔

لیکن حضرت عثمان نے صحابہ کی رائے سے یہ جرأت مندانہ اقدام کیا۔ بعد کو جب خلیفہ ثالث کے خلاف کچھ شورش پسندوں نے ہنگامہ کیا، یہاں تک کہ ان کو قتل کر دیا گیا، اس وقت شورش پسندوں نے خلیفہ ثالث کو بدنام کرنے کے لیے جو باتیں کہی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے خلیفہ ثالث کو حراق المصاحف قرار دیا تھا، یعنی قرآن کو جلانے والا۔ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبي، خطبة الكتاب، ص: 54)

قرآن کی تاریخ اور اس کی تدوین پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ قرآن اگر چہ قدیم زمانہ میں اترا، لیکن اس کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدام کیا گیا، حتی کہ سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔

Printed page