امت کا زوال
Al-Risala, June 2015, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن ابی داؤد کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَوَّلَ ما دخلَ النَّقصُ عَلی بَنی إسرائیلَ کانَ الرَّجُلَ یَلقَی الرَّجُلَ فیقولُ یاهذا اتَّقِ اللَّهَ وَدَع ما تَصنَعُ فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لَكَ ثُمَّ يلقاهُ مِنَ الغَدِ فلا يَمنَعُهُ ذلِكَ أن يَكونَ أكيلَهُ وشريبَهُ وقَعيدَهُ فلَمّا فَعَلوا ذلِكَ ضربَ الله قلوبَ بعضِهم ببعضٍ ثمَّ قالَ لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِلَى قَوْلِهِ فَاسِقُونَ ثُمَّ قالَ كلا والله لتأمرُنَّ بالمَعروفِ ولتَنہَوُنَّ عَنِ المُنكَرِ ولَتَأخُذُنَّ عَلَى يَدَي الظَّالمِ ولَتَأطِرَنَّهُ عَلَى الحَقِّ أطراً ولتقصرُنَّهُ عَلَى الحَقِّ قَصراً (ابوداؤد: 4336) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے اندر جو پہلا نقص آیا، وہ یہ تھا کہ ان کا ایک شخص اپنی قوم کے دوسرے شخص سے ملتا اور اُس سے کہتا کہ اے شخص، خدا سے ڈر اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ ایسا کرنا تمھارے لیے جائز نہیں۔ وہ اگلے دن اُس شخص سے ملتا (اور وہ دیکھتا کہ وہ اپنی روش سے باز نہیں آیا ہے)۔ مگر یہ چیز اُس کو اس سے نہ روکتی کہ وہ اس کے ساتھ کھانے اور پینے اور بیٹھنے میں اس کا شریک بنے۔ جب انھوں نے ایسا کیا تو اللہ نے ایک کے دل کو دوسرے کے دل جیسا کر دیا۔ پھر آپ نے سورۃ المائدہ (سورہ نمبر 5) کی آیت 78 تا پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم، تم ضرور لوگوں کو معروف کا حکم دو گے، اور تم ضرور لوگوں کو منکر سے روکو گے، اور تم ضرور ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور تم اس کو ضرور حق کی طرف موڑ دو گے۔ یہ حدیث اصلاً یہود کی شکایت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ امت مسلمہ کی نصیحت کے طور پر اس حدیث میں امتوں کے بارے میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیا ہے، اور وہ یہ کہ جب امت کی بعد کی نسلوں میں زوال آتا ہے تو ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی زوال کے ظاہرے کی نشاندہی فرمائی ہے، اور امت کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ اس وقت انھیں کیا کرنا غور کیجیے تو یہ حدیث مسلمانوں کے آج کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔