نسخ کیا ہے
Al-Risala, June 2015, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ البقرہ کی ایک آیت یہ ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ اَيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا اَوْ مِثْلِهَا ط اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (2:106) یعنی ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں نسخ سے مراد الغاء (to abolish) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہٹانا آیت میں اس عمل کو بظاہر اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، لیکن یہ اسلوب کی بات ہے۔ اس سے مراد حقیقتاً اجتہاد کا عمل ہے، جس کو متقی اہل علم انجام دیتے ہیں۔ سے مراد اچھا (better) نہیں ہے بلکہ اس سے مراد انسانی حالات کے اعتبار سے زیادہ قابل تطبیق (more applicable) ہونا ہے۔
قرآن کے مطابق، اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی (33:23)۔ مگر انسان ایک آزاد مخلوق ہے، اس بنا پر انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ حالات کی اس تبدیلی کی بنا پر ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کے کسی حکم کو مطابق حالات بنانے کے لیے اس کو ری ڈیفائن (redefine) کیا جائے یا حالات کے مطابق اس کی نئی تفسیر (re-interpretation) کیا جائے ۔ یہی وہ فطری ضرورت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں نسخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی کچھ آیتوں میں اہل ایمان کو قتال (war) کا حکم دیا یہ حکم توحید کی طرح ابدی حکم کے معنی میں نہ تھا، بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب تھا۔ حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ قدیم دور اگر جنگ کا دور تھا تو اب دنیا میں امن کا دور آچکا ہے، اب اسلام کے مقصود کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں۔ اس لیے اب قتال کی آیت کی تشریح نو (re-interpretation) کی جائے گی، اور یہ نئی تشریح بلاشبہ قرآن کے مطابق قرار پائے گی۔