Al-Risala · June 2015

دفاع یا دعوت

Al-Risala, June 2015, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

سرولیم میور (William Muir) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز تھا، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا۔ سرولیم میور نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ”لائف آف محمد‘‘ (The Life of Mahomet) تھا۔ یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع ہوئی ۔

علماء کے نزدیک یہ کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف زہر پھیلانے والی کتاب تھی۔ لوگ مصنف کو دشمن اسلام قرار دے کر اس کے سخت خلاف ہو گئے۔ سرسید احمد خاں کو اس پر غصہ آیا، انھوں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کروایا، پھر اس کے خلاف اردو زبان میں ایک کتاب لکھی، جو خطبات احمدیہ کے نام سے شائع ہوئی۔

اس طرح کے کام کو دفاع اسلام کا عنوان دے کر بہت اہم کام سمجھا جاتا ہے، مگر یہ طریقہ سنت کے مطابق نہیں۔ سنتِ رسول کے مطابق اصل کرنے کا کام دعوت اسلام ہے، نہ کہ دفاع یعنی مصنف کے لئے دعا کرنا، اس سے مل کر اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا۔ اس موضوع پر مثبت انداز میں تعارفی کتاب تیار کر کے چھاپنا۔ انگریزوں میں اور دوسرے لوگوں میں پرامن دعوتی مشن جاری کرنا۔ سنتِ رسول کے مطابق یہی کرنے کا اصل کام ہے۔ مگر یہ اصل کام نہ سرسید احمد خاں نے کیا، اور نہ علماء نے۔

سنتِ رسول کے مطابق اسلام کا اصل مشن یہ نہیں ہے کہ مفروضہ دشمنانِ اسلام کے خلاف مناظرانہ انداز میں تقریریں کی جائیں، جوابی انداز میں کتابیں شائع کی جائیں، یہ سب ردعمل (reaction) کے طریقے ہیں، اور ردعمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ اس قسم کے حامیانِ اسلام کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے غور کرنا چاہئے، یعنی انھیں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ ان کی جوابی کوششوں کا مثبت نتیجہ کیا ہوا، باعتبار نتیجہ اس سے اسلام کو فروغ ہوا یا نفرت کو فروغ ہوا۔

Printed page