Al-Risala · June 2015

بد تر از حیوان

Al-Risala, June 2015, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الانفال میں ایک غیر مطلوب انسانی کردار کا ذکر ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ (8:22) قرآن کی اس آیت سے مراد کوئی مخصوص قوم نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو اس صفت کا مصداق ہوں۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو: ان کے پاس عقل ہے جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے حیوان، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ ، یہی لوگ غافل ہیں (8:179)۔ حق کے مقابلے میں اس منفی روش کا سبب، عام طور پر بالقصد انکار نہیں ہوتا بلکہ اس کا سبب غفلت یا بے توجہی (negligence) ہوتا جب حق کی بات بتائی جائے تو ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم ہونے کی بنا پر اس کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے، وہ نہ اس کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں، اور نہ اہمیت کے ساتھ اس پر غور وہ اس سے بے اعتنائی برت کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ انھوں نے سنا ہی نہیں (45:8)۔

اصل یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کے لحاظ سے بطور خود کسی چیز کو اہم سمجھ لیتا ہے، اور کسی چیز کو غیر اہم، وہ کسی چیز کو قابل غور سمجھتا ہے، اور اس کی نظر میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو قابل غور ہی نہیں۔ لوگوں کا یہ مزاج ہو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے باہر کسی بات کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ اس پر وہ اپنے سے باہر کسی بات کے بارے میں ایسی روش اختیار کرتے ہیں جیسے کہ انھوں نے اس کو سنا ہی نہیں۔ ان کے پاس عقل ہوتی ہے لیکن وہ اپنی عقل کو کہیں اور مشغول کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی نئی چیز کو اہمیت دیں، اور اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، ایسے لوگ حیوان کی مانند ہیں، کیونکہ حیوان بھی یہی کرتا ہے کہ اپنی مانوس چیزوں کے سوا کسی اور چیز کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس پر دھیان دے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرےـ

Printed page